خواتین کا تحفظ اور سوشیل سیکوریٹی کے معاملے میں حیدرآباد سرفہرست

   

کام کرنے والی خواتین کے ہاسٹلس اور رہائشی کرایہ دیگر ضروریات دوسرے شہروں کے بہ نسبت کم ، سروے میں انکشاف
حیدرآباد ۔ 24 ۔ جون : ( سیاست نیوز) : گریٹر حیدرآباد میں خواتین کے مظالم اور جنسی ہراسانیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باوجود ایک حالیہ سروے میں ملک کے دیگر میٹرو شہروں کے بہ نسبت حیدرآباد میں خواتین کا سماجی تحفظ (سوشیل سیکوریٹی ) قدرے بہتر ہے ۔ آئی ٹی ۔ بی پی او ۔ کے پی او شعبوں میں خدمات انجام دینے والی خواتین زندگی گذارنے کے لیے اخراجات میں بھی کافی رہنے کا انکشاف ہوا ہے ۔ سٹ اوے نامی رینٹل ادارے نے آن لائن میں سروے کا اہتمام کیا ہے ۔ اس ادارے نے حیدرآباد ۔ پونے ۔ بنگلور اور دہلی جیسے شہروں میں خواتین کی رائے حاصل کی ہے ۔ سروے میں تعلیم ، تجارت ، کاروباری اداروں میں خدمات انجام دینے والی خواتین کے تحفظ میں شہر حیدرآباد کو 4.2 پوائنٹس حاصل ہوئے ہیں ۔ سرفہرست مقام حاصل کیا ہے ۔ اس کے بعد 4 پوائنٹس حاصل کرتے ہوئے پونے دوسرے مقام پر ہے ۔ تیسرے مقام پر رہنے والے بنگلور کو 3.9 پوائنٹس حاصل ہوئے جب کہ 3.4 پوائنٹس کے ساتھ دہلی چوتھے مقام پر ہے ۔ شہر کے مختلف علاقوں مادھا پور ، گچی باولی ، ہائی ٹیک سٹی ، شمس آباد ، میاں پور ، کے پی ایچ بی ، شیر لنگم پلی ، چندہ نگر کے علاوہ دیگر علاقوں کے بہ نسبت دیگر شہروں کے مکانات کے کرائے ، ہاسٹل فیس کام کرنے والی خواتین پر زیادہ مالی بوجھ ہے ۔ چند میٹرو شہروں میں ملازمتیں کرنے والی تنہا خواتین اپنی تنخواہوں کا نصف حصہ کرایہ ، کھانے اور دیگر ضروریات کے لیے خرچ کررہی ہیں ۔ رہائش کے لحاظ سے شہر حیدرآباد کے مختلف ہاسٹلس میں ماہانہ 6 تا 7 ہزار روپئے کے مصارف ہیں ۔ سروے میں حصہ لینے والی کئی خواتین نے بتایا کہ کام کرنے کی جگہ پانچ تا دس کلو میٹر کے حدود میں ہاسٹل ، گھروں میں رہنے کے لیے دوسری سہولتیں بھی دستیاب ہیں ۔ شہر کے اہم مقامات مادھا پور ، کنڈاپور ، گچی باولی ، دیگر علاقوں میں خواتین کو کرایہ کے گھر دستیاب ہیں ۔ سہولیات کے لحاظ سے ہاسٹلس میں خواتین سے جو کرایہ وصول کیا جارہا ہے ۔ وہ ان پر مالی بوجھ نہیں ہے ۔ جب کہ پونے میں ہاسٹلس اور رہائشی مکانات میں ماہانہ کرایہ اوسطاً 8 تا 9 ہزار بنگلور میں اوسطاً 9 تا 10 ہزار دہلی میں اوسطاً 10 تا 12 ہزار روپئے کرایہ ادا کرنا پڑرہا ہے ۔۔ ن