سدھارتھ نیما…آفریہ انصاری
ہندوستان ایک کثیر آبادی والا ملک ہے ۔ نتیجہ میں ہمیں خام تیل (پٹرول و ڈیزل سے لے کر پکوان گیس کھاد کے ساتھ ساتھ خوردنی تیل بھی رآمد کرنا پڑتا ہے ۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ ہندوستان نے اپنی خوردنی تیل کی ضروریات یا طلب کا 60 فیصد حصہ پورا کرنے کیلئے زائد از 19 ارب ڈالرس مالیتی خوردنی تیل درآمد کیا ۔ اس کے نتیجہ میں ہندوستان عالمی سطح پر قیمتوں میں اُتار چڑھاؤ اور سربراہی میں رکاوٹوں کیلئے زیادہ حساس ہوگیا جبکہ وہ قیمتی زر مبادلہ بھی خرچ کرنا پڑا جسے ایسی فصلوں کی مقامی پیداوار پر استعمال کیا جاسکتا تھا ۔ ہندوستانی گھرانوں تک کفایت شعاری کی مہم اس وقت پہنچی جب وزیراعظم نریندر مودی نے ہندوستانیوں سے اپیل کی کہ وہ خوردنی تیل کا استعمال کم کریں( ویسے بھی مودی جی نے شہریوں کو کئی ایک مشورے بھی دیئے تھے جن میں ایک سال تک سونا نہ خریدنے ، بیرونی ممالک کے سیاحتی دورے نہ کرنے ، بیرونی ملکوں میں شادی بیاہ کی تقاریب کا اہتمام نہ کرنے کے مشورے بھی شامل تھے۔ جس کا مقصد بیرونی زر مبادلہ کے ذخائر کو کم ہونے سے بچانا تھا کیونکہ ڈالر کے مقابلہ روپئے کی قدر بھی تیزی سے گرتی جارہی تھی اور امریکہ ، اسرائیل ، ایران جنگ نے بھی عالمی معیشت کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا تھا) یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا 2024-25 مارکیٹنگ سال میں خوردنی تیل کی فی کس سالانہ کھپت یا استعمال 17 کیلو گرام سے تجاوز کرگیا جو یقیناً ایک تشویشناک سطح ہے ، اس طلب کا بڑا حصہ اندرون ملک پورا نہیں ہوپاتا جس کے نتیجہ میں خوردنی تیل کی برآمدات پر ہندوستان کا انحصار انتہائی تشویش کا باعث بن چکا ہے۔ آپ کو یہ بتانا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ ملک میں خوردنی تیل کی پیداوار بنیادی طورپر سرسوں، رائی اور سویا بین پر مشتمل ہے جبکہ استعمال میں پام آئیل کا حصہ سب سے زیادہ ہے ۔ اس کے بعد سویا بین آئیل کا نمبر آتا ہے ، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پام آئیل کی پیداوار کیلئے بہت زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے اور مختصر مدت میں اس کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ممکن نہیں اس لئے ضروری ہے کہ سویا بین پر توجہ مرکوز کی جائے جو پہلے ہی ملک کے مختلف حصوں میں کاشت کی جاتی ہے تاکہ طلب اور رسد کے درمیان موجود فرق کو کم سے کم کیا جائے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ ہندوستان دنیا میں سویا بین کی پیداوار کرنے والا پانچواں بڑا ملک ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ دنیا کا سب سے بڑا درآمد کنندہ بھی ہے ۔ واضح رہے کہ سویا بین کی پیداوار سال 2015-16 میں 85.7 لاکھ ٹن سے بڑھ کر 2024-25 میں 152.7 لاکھ ٹن ہوگئی۔ اگرچہ یہ اضافہ حوصلہ افزاء ہے لیکن تیزی سے بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کیلئے ناکافی ہے ۔ اس وقت ہندوستانی مقامی پیداوار ، صرف تقریباً 30 فیصد ضروریات پوری کرتی ہے جبکہ سویا بین آئیل کی برآمدات مقامی پیداوار سے ڈھائی گنا زیادہ ہے ۔ سال 2025-26 میں سویا بین کی درآمدات میں قابل لحاظ اضافہ ہوا جبکہ مقامی پیداوار میں کمی دیکھی گئی ۔ اس حقیقت سے بھی کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ ہندوستان بنیادی طورپر ارجنٹینا اور برازیل سے خام سویا بین تیل برآمد کرتا ہے اور صرف 2025-26 کے دوران ارجنٹینا سے برآمدات میں 8 فیصد جبکہ برازیل سے برآمدات میں 32 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ جنوبی ایشیائی آزآد تجارتی معاہدہ (SAFTA) کے تحت نیپال کو حاصل ڈیوٹی فری سہولت کے باعث نیپال سے سویا بین آئیل کی برآمدات میں حیران کن 147 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ دوسری جانب مقامی منظرعامہ بھی تشویشناک ہے۔ محکمہ زراعت و کسان بہبود کے دوسرے پیشگی تخمینہ کے مطابق 2025-26 میں سویا بین کی پیداوار 16 فیصد سے کم ہوکر 127.2 لاکھ ٹن رہنے کا امکان ہے ۔ اس وقت سب سے اہم ہدف فی ہیکٹر پیداوارمیں اضافہ ہونا چاہئے ۔ چاول اور گندم کے شعبہ میں ہندوستان کا تجربہ ظاہر کرتا ہے ۔ اگر مسلسل پیداواری صلاحیت بڑھائی جائے تو نہ صرف خود کفالت حاصل کی جاسکتی ہے بلکہ برآمد کنندہ ملک بھی بنایا جاسکتا ہے چونکہ ہندوستان دنیا کا پہلا ملک بن چکا ہے جس نے جین ایڈیٹنگ کے ذریعہ چاول کی نئی اقسام تیار کی ہیں، اس لئے حکومت کو چاہئے کہ وہ سویا بین کیلئے بھی جین ایڈیٹنگ پروگرام کو لیب سے کھیت تک labto land حکمت عملی کے تحت تیز کرے اور بیماریوں اور موسمی دباؤ برداشت کرنے والی اقسام تیار کرے۔ بہرحال ہندوستان عوام کو شائد اس بات کا اندازہ نہیں کہ ان کی پلیٹس میں ایسی چیز ہے جو امپورٹ کی ہوئی ہے۔