دارالعلوم دیوبند کو امریکی سفارتخانہ کی نائب سکریٹری میشل کا دورہ

,

   

دیوبند : امریکی سفارتخانہ کی نائب سکریٹری برائے سیاسی امور میشل ایلمس نے آج ایشیاء کی عظیم دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند پہنچ کر ادارہ کے مہتمم وشیخ الحدیث مفتی ابوالقاسم نعمانی اور نائب مہتمم مولانا عبدالخالق مدراسی سے ملاقات کی۔ مولانا عبدالخالق مدراسی نے میشل کا خیرمقدم کرتے ہوئے دارالعلوم دیوبند کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ غریب اور پسماندہ مسلمانوں میں تعلیم کے مشن کو لے کر آگے بڑھتا ہے اور اسی مقصد اس کا قیام عمل میں آیا تھا کہ انگریزوں کے ذریعہ چلائی جارہی ارتداد کی تحریک کا مقابلہ کیا جاسکے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے غریب بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ جملہ ضروریات کی کفالت کا عزم کیا ،جس پر دارالعلوم دیوبند آج بھی قائم ہے۔ دارالعلوم دیوبند میں داخل تمام طلبہ کے قیام و طعام اور تعلیم کی کفالت بلامعاوضہ کی جاتی ہے۔ دارالعلوم دیوبند کی تحریک کا اثر یہ ہے کہ آج پوری دنیا میں مدارس کی شکل میں علوم اسلامیہ کے مراکز قائم ہیں جن کے ذریعہ علم دین کی درسگاہیں آباد ہیں۔ دارالعلوم دیوبند اور اس جیسے تمام مدارس پوری دنیا کو امن وآشتی کا پیغام دیتے ہیں۔دارالعلوم دیوبند قومی و وطنی خدمات میں بھی اپنا بنیادی کردار رکھتا ہے۔ تعلیمی مشن کے اعتبار سے دارالعلوم دیوبند ایک خالص دینی تعلیمی ادارہ ہے اور اس کا کسی سیاسی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے کہا کہ سیاست سے یہ ادارہ ہمیشہ دور رہا ہے ، لیکن سماجی اصلاحات سے کبھی غافل بھی نہیں رہا۔ ملک کی آزادی سے لے کر آج تک دارالعلوم دیوبند اور اس کے اکابر نے ملک و ملت کی رہنمائی میں نمایاں کردار ادا کرتا آیا ہے۔مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے کہا کہ دارالعلوم دیوبند دینی علوم کی درس و تدریس کے اعتبار سے پوری دنیا میں اپنا ممتاز مقام رکھتا ہے۔ امریکی سفارتخانہ کی سیاسی پولیٹیکل سکریٹری میشل نے دارالعلوم دیوبند کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ یہ بڑی بات ہے کہ کسی ادارہ اور فارغین کا کردار اتنا صاف اور شفاف ہو۔ انہوں نے کہا کہ دارالعلوم دیوبند امن و آشتی کا پیغام دیتا ہے اور دہشت گردی کی مخالفت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کا راستہ امن پسندی کی راہ سے ہی ہوکر گزرتا ہے۔ میشل نے کہا کہ دارالعلوم دیوبند کی لائبریری دیکھ کر روحانی سکون حاصل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کی کتب خانے نادر ونایاب ہیں ، ان کی حفاظت کی جانی چاہئے۔ میشل نے لائبریری ، مسجد رشید کا بھی جائزہ لیا۔ اس دوران ان کے ساتھ شعبۂ انگلش کے استاذ مولانا عبدالملک اور مفتی محمداللہ رہے۔ میشل کے ساتھ امریکی سفارتخانہ کے سیاسیات کے ماہر ابھی رام گھڑیال پٹیل بھی موجود تھے۔ بعد ازاں میشل نے جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا سید ارشد مدنی کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی۔