درگم چیرو ایف ٹی ایل مسئلہ کی عنقریب یکسوئی

   

جلد ہی نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا : کمشنر حیڈرا
حیدرآباد ۔ 11 جنوری (سیاست نیوز) حیدرآباد کے درگم چیرو کے فل ٹینک لیول (FTL) کی حدبندی کا دیرینہ مسئلہ جو گزشتہ 25 سالوں سے تنازعہ کا شکار بنا ہوا تھا، جلد ہی حل ہونے والا ہے۔ حیڈرا کے کمشنر اے وی رنگاناتھ نے یقین دہانی کرائی کہ جھیل کے ایف ٹی ایل کیلئے حتمی نوٹیفکیشن جاری کردیا جائے گا۔ اس عمل کو مکمل کرنے کیلئے چار ماہ کا وقت درکار ہوگا۔ حیڈرا کمشنر نے درگم چیرو کے ایف ٹی ایل پر ماضی میں جاری کردہ ابتدائی نوٹیفکیشن پر اعتراضات پر عوامی سماعت کی ہائیکورٹ کی ہدایت کے مطابق درگم چیرو کے آس پاس رہنے والی 6 کالونیوں کے مکینوں سے اعتراضات اور مشورے موصول ہوئے۔ رنگناتھ جو جھیل پروٹیکشن کمیٹی کے چیرمین بھی ہیں، انہوں نے کہا کہ جھیل کے ایف ٹی ایل کیلئے حتمی نوٹیفکیشن تیار کرنے کیلئے سائنسی طریقے اپنائے جارہے ہیں جو آخری نوٹیفکیشن تیار کیا جارہا ہے۔ سکندرآباد میں بدھ بھون میں واقع حیڈرا کے دفتر میں سو سے زائد لوگوں نے رنگناتھ کو بتایا کہ یہ مسئلہ پہلی مرتبہ اس وقت شروع ہوا جب 2000 میں شدید بارش کی وجہ سے پانی کی سطح میں اضافہ ہوا اور جو علاقہ پانی سے گھرا ہوا تھا اسے اس وقت ایف ٹی ایل سمجھا جاتا تھا۔ یہ دعویٰ کرتے ہوئے جھیل کی 65.12 ایکر اراضی ایف ٹی ایل تھی اور کئی سالوں سے مختلف محکموں کی جانب سے ایف ٹی ایل کو مختلف انداز میں دکھایا گیا جبکہ کئی جگہوں پر ایف ٹی ایل سکڑ رہا تھا، وہاں کے رہائشیوں نے دعویٰ کیا کہ درگم چیرو ایف ٹی ایل میں بڑھ رہا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پچھلے 25 سالوں میں جھیل پروٹیکشن کمیٹی نے اس معاملے پر ایک بھی عوامی سماعت نہیں کی۔ رہائشیوں نے رنگناتھ کو بتایا کہ کچھ میڈیا اور سوشل میڈیا ان کی زمینوں کو درگم چیرو کہ کے ایف ٹی ایل کے اندر آنے کی تصویرکشی کررہے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی حالت زار ایسی ہے کہ وہ اپنی خالی زمینوں پر نہ تو گھر تعمیر کرپارہے تھے اور نہ ہی سخت مالی ضروریات کے دوران اپنی زمین فروخت کرنے کے قابل تھے۔ رہائشیوں کو ریونیو ریکارڈز، جھیل کی یادداشتیں، نیشنل ریموٹ سینسنگ سنٹر کی سٹلائیٹ تصاویر اور دیگر دستاویزات کا استعمال کرتے ہوئے یہ یقینی بنایا جائے اور FTL اس طرح قائم کیا جائے گا۔ نوٹیفکیشن میں FTL سے اختلاف نہ کیا جاسکے۔ انہوں نے بتایا کہ ایف ٹی ایل کا قیام سروے آف انڈیا، سروے آف تلنگانہ، محکمہ آبپاشی، جی ایچ ایم سی، ایچ ایم ڈی اے، این آر ایس سی اور محکمہ محصولات کا مشترکہ کام تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کیلئے Bits Pilani آئی آئی ٹی حیدرآباد، جے این ٹی یو کے ماہرین سے بھی مدد حاصل کی جارہی ہے۔ ش