بلدی ، تعلیمی و دیگر سرکاری ریکارڈس کی بنیاد پر مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ جاری کئے جائیں، صدر جمعیۃ العلماء کا خطاب
نلگنڈہ۔ 11 جولائی ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ریاستی صدر جمعیۃ العلماء ہند مولانا شاہ سید احسان الدین رشادی قاسمی نے الیکشن کمیشن آف انڈیا اور ریاستیں حکومتِ سے مطالبہ کیا ہے کہ جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے عمل کے دوران ریاست کے تمام حقیقی اور اہل ووٹروں کے حقوق کے مکمل تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے فوری مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے بالخصوص غریب اقلیتی پسماندہ طبقات درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل ST سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ PRC جاری کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ کوئی بھی مستحق شہری حتمی ووٹر فہرست سے خارج نہ ہو اور اسے غیرضروری سرکاری پیچیدگیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اپنے صحافتی بیان میں مولاناسید احسان الدین رشادی قاسمی نے کہا کہ حقِ رائے دہی ہر شہری کا آئینی اور جمہوری حق ہے لہٰذا ووٹر فہرست کی نظرثانی کے عمل میں کسی بھی اہل شہری کو محض دستاویزی پیچیدگیوں کی بنیاد پر بنیادی حق سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے دور دراز دیہی علاقوں پسماندہ بستیوں اور غریب خاندانوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد کے پاس مطلوبہ دستاویزات دستیاب نہیں ہوتیں جس کے باعث انہیں ووٹر فہرست میں اپنا نام برقرار رکھنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔انہوں نے حکومتِ تلنگانہ کی توجہ اس جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پاس پہلے ہی سمگرا کٹمبا سروے سماجی معاشی اور ذات پر مبنی سروے فوڈ سکیورٹی کارڈبلدیاتی اداروں کی جانب سے جاری کردہ سرٹیفکٹ تعلیمی اداروں اور دیگر سرکاری محکموں کا مستند ریکارڈ موجود ہے۔ اگر انھیں سرکاری ریکارڈز کی بنیاد پر اہل شہریوں کو مستقل رہائشی یا فیملی رجسٹر سرٹیفکٹ جاری کیے جائیں تو ہزاروں خاندانوں کو فوری راحت مل سکتی ہے اور فہرست رائے دہندگان کی تیاری بھی زیادہ شفاف مؤثر اور قابلِ اعتماد انداز میں مکمل ہوسکے گی۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت اس اہم عوامی مطالبہ پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے فوری اقدامات کرے گی تاکہ ریاست کے ہزاروں اہل ووٹر اپنے جمہوری حق سے محروم نہ ہوں اور نظرثانی فہرست رائے دہندگان SIR کے لیے مقررہ مدت میں مناسب توسیع کی جائے تاکہ تمام اہل ووٹرز کو ضروری دستاویزات جمع کرانے اور اپنے حقِ رائے دہی کے تحفظ کیلئے خاطر خواہ موقع فراہم کیا جاسکے۔