دشا قتل کے ملزمین کی نعشوں کے دوبارہ پوسٹ مارٹم کا معاملہ

   

نعشوں کی حالت بتانے سپرنٹنڈنٹ گاندھی ہاسپٹل کی آج عدالت طلبی
حیدرآباد۔ 20 ڈسمبر (سیاست نیوز) آندھراپردیش ہائی کورٹ نے دشا قتل کے ملزمین کی نعشوں کی حالت کے بارے میں دریافت کرتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ گاندھی ہاسپٹل کو کل عدالت میں حاضر ہونے کی ہدایت دی ہے۔ سپرنٹنڈنٹ گاندھی ہاسپٹل ملزمین کی نعشوں کی حالت کے بارے میں عدالت کو واقف کرائیں گے۔ دشا انکائونٹر معاملے کی آج عدالت میں سماعت ہوئی۔ ملزمین کی نعشوں کو پسماندگان کے حوالے کرنے کے مسئلہ پر مباحث ہوئے۔ چیف جسٹس نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کو ہدایت دی کہ نعشوں سے متعلق شواہد اکٹھا کریں۔ نعشوں کے دوبارہ پوسٹ مارٹم پر غور کیا جارہا ہے۔ حکومت کے وکیل نے کہا کہ پوسٹ مارٹم مکمل کیا گیا لہٰذا دوسری مرتبہ پوسٹ مارٹم کی ضرورت نہیں۔ عدالت نے معاملہ کی آئندہ سماعت ہفتے تک ملتوی کی گئی۔ ملزمین کی نعشوں کو حوالے کرنے کے مسئلہ پر آج عدالت میں گرماگرم مباحث ہوئے۔ نعشوں کا دوبارہ پوسٹ مارٹم اور فارنسک شواہد اکٹھا کرنے کے بعد نعشوں کو پسماندگان حوالے کرنے کے مسئلے کا جائزہ لیا گیا۔ نعشوں کی موجودہ حالت کا پتہ چلانے کے لیے ہائی کورٹ نے گاندھی ہاسپٹل کے سپرنٹنڈنٹ کو طلب کیا ہے۔ واضح رہے کہ سائبر آباد پولیس نے 6 ڈسمبر کو دشا قتل معاملے کے چاروں ملزمین کو مبینہ انکائونٹر میں ہلاک کردیا تھا۔ عدالت نے بتایا کہ نئی دہلی کے فارنسک ماہرین نعشوں کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کرسکتے ہیں۔ ایڈوکیٹ جنرل نے دوبارہ پوسٹ مارٹم کی مخالفت کی۔ ایڈوکیٹ جنرل نے اس مسئلہ پر حکومت کی رائے پیش کرنے کے لیے عدالت سے وقت مانگا جس پر عدالت نے ہفتے کی صبح 10:30 بجے تک حکومت کا موقف پیش کرنے کی ہدایت دی۔