مستقبل میں پچاس شہروں میں شدید گرمی کی پیش قیاسی ، آکسفورڈ یونیورسٹی کی رپورٹ
حیدرآباد۔11۔جون(سیاست نیوز) دنیا بھر میں جن شہروں میں گرمی کی شدید لہروں کا سب سے زیادہ خطرہ ہے ان میں ’شہر حیدرآباد‘ بھی شامل ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے جاری کی گئی مطالعاتی رپورٹ میں کئے گئے انکشاف میں کئے جانے والے دعوے میں کہاگیا ہے کہ مستقبل میں دنیا بھر کے جن 50 شہروں میں گرمی کی شدت میں زبردست اضافہ ریکارڈ کئے جانے کا خدشہ ہے ان میں ہندستانی شہر بنگلورو‘ حیدرآباد ‘ ممبئی اور چینائی بھی شامل ہیں۔شہری علاقوں میں ’گرمی کی شدت ‘ میں اضافہ کی پیمائش کے لئے جن بنیادوں کا تعین کیاگیا ہے ان میں شہری آبادی کی حالت ‘ امکنہ کی صورتحال ‘ آبادی ‘ صحت عامہ کے اصول اور درجہ حرارت میں ریکارڈ کئے جانے والا اضافہ شامل ہے۔ شہر حیدرآباد میں ’گرمی کی شدت ‘ میں اضافہ کے سلسلہ میں آکسفورڈ یونیورسٹی کے مطالعہ میں کئے جانے والے دعوے میں کہاگیا ہے کہ شہر حیدرآباد میں گرمی کی شدت میں ہونے والے اضافہ کی بنیادی وجوہات ماحولیاتی تبدیلی اور آبادی کے علاوہ شہر میں ریکارڈ کی جانے والی توسیع ہے۔دنیا بھر کے ابتدائی 30 شہروں کی فہرست میں ’حیدرآباد‘ کو شامل رکھا گیا ہے جہاں آئندہ برسوں کے دوران گرمی میں شدید اضافہ ریکارڈ کیا جائے گا۔دنیا کے 50انتہائی گرم شہروں کی فہرست میں مطالعہ کرنے والی ٹیم میں شامل محققین نے ہندستان کے 14 شہروں کو شامل رکھاہے شہر حیدرآباد 30ویں نمبر پر ہے جبکہ ممبئی 46 ویں مقام پر ہے اسی طرح 50 میں بنگلورو اور چینائی کو شامل رکھا گیا ہے۔سال 2026کے موسم گرما کے دوران شہر حیدرآباد میں یکم اپریل تا 5 جون کے دوران 47دن زائد از 40ڈگری سیلسیس درجہ رحرارت ریکارڈ کیاگیا ہے ۔ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ ہندستانی شہری علاقہ جات اطراف کے نواحی و مضافاتی علاقوں سے 45 فیصد زیادہ گرم ریکارڈ کئے جانے لگے ہیں جس کی بنیادی وجہ آبادی میں اضافہ اور ٹریفک کے علاوہ ماحولیاتی تبدیلیاں ہے۔کونسل برائے توانائی ‘ ماحولیات و آب کے مطابق جاریہ سال موسم گرما کے دوران ہندستان کی 76 فیصد آبادی نے شدید گرما سے انتہائی شدید گرما کا سامنا کیا ہے اور ملک کے بیشتر شہری علاقوں میں گرما کی شدت کو محسوس کیا گیا۔3/m/b