حیدرآباد۔7۔جون۔(سیاست نیوز) 2030 تک دنیا میں 6G ٹیکنالوجی آجائے گی اور اسمارٹ فون ناپید ہوجائیں گے بلکہ ان کا استعمال ترک کردیا جائے گا!دنیا بھر میں عوام اسمارٹ فون کے استعمال کے بجائے اسمارٹ واچ‘ اسمارٹ گلاسس اور اسمارٹ وائس کا استعمال کریں گے۔ دنیا میں 2030 تک روشناس کروائی جانے والی عصری 6G ٹیکنالوجی کسی اسمارٹ فون پر استعمال نہیں کی جاسکے گی بلکہ اس کے لئے مختلف کمپنیوں کی جانب سے دماغی خلیات میں نصب کی جانے والی ٹیکنالوجی کی تیاری پر کام کر رہے ہیں۔ Nokia نوکیا کمپنی کے سی ای او مسٹر پیکا لیونڈ مارک کی جانب سے کی گئی پیش قیاسی میں کہا گیا ہے کہ ٹیکنالوجی میں جس رفتار کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے اسے دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ جلد ہی بازار میں اسمارٹ واچ کی طرح اسمارٹ گلاس بھی آجائے گی اور اسمارٹ واچ‘ اسمارٹ گلاس کے ساتھ اگر آئی پاڈ جو کان میں لگائے جاتے ہیں ان کے استعمال کو فروغ حاصل ہونے لگتا ہے تو ایسی صورت میں اسمارٹ فون کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔ انہوں نے اسمارٹ فون کے مستقبل کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ جلد ہی اسمارٹ فونس کا استعمال ترک کردیا جائے گا اور یہ ناپید ہوجائیں گے ۔ پیکالیونڈ مارک نے بتایا کہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں معروف نام ایلان مسک کی کمپنی نیورا لنک Neuralinkکی جانب سے انسانی دماغ میں نصب کئے جانے والے آلات کی تیاری میں مصروف ہے اور کمپنی کے ماہرین نے اس بات کے بھی اشارے دیئے ہیں کہ ان کی کمپنی جلد ہی انسانی جسم میں نصب کئے جانے والے آلات کی تنصیب اور اس کے ذریعہ رابطہ کو یقینی بنانے میں بڑی حد تک کامیابی حاصل کرلی ہے اور جلد ہی اس کے استعمال کو عام کرنے کے سلسلہ میں اقدامات کئے جائیں گے۔ ایلان مسک کی کمپنی کی جانب سے دنیا میں 6Gٹیکنالوجی کے استعمال کے اور ان کی اسمارٹ فونس کے بجائے نظر نہ آنے والے آلات بالخصوص انسانی دماغ اور جسم میں نصب کرنے کے قابل آلات کا استعمال یقینی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں صرف اسمارٹ واچ‘ اسمارٹ گلاس یا اسمارٹ آئی پاڈ ہی نہیں بلکہ اس کے علاوہ کئی اشیاء کا استعمال کیا جا رہاہے بلکہ الکٹرانک اشیاء کو بھی فون سے مربوط کرتے ہوئے ان کے استعمال کو یقینی بنایا جانے لگا ہے لیکن یہ سب 5G ٹیکنالوجی میں ہی ممکن ہوگا اور جب 6G ٹیکنالوجی آجائے گی تو ایسی صورت میں انسان کی سونچ کے مطابق وہ کام کرپائے ایسی ٹیکنالوجی کو فروغ حاصل ہونے لگ جائے گا۔م
حیدرآباد کے واقعات پر قومی کمیشن برائے خواتین کا اظہار تشویش
ڈائرکٹر جنرل پولیس سے اندرون 7 یوم رپورٹ طلب
حیدرآباد۔/7 جون، ( سیاست نیوز) قومی کمیشن برائے خواتین نے حیدرآباد میں ایک ہفتہ کے دوران 5 کمسن لڑکیوں کی عصمت ریزی کے واقعات پر از خود کارروائی کرتے ہوئے ڈائرکٹر جنرل پولیس سے رپورٹ طلب کی ہے۔ کمیشن نے ایک ہفتہ میں پیش آئے واقعات کے علاوہ پیر کے دن مزید دو کمسن لڑکیوں سے متعلق واقعات پر شدید عمل کا اظہار کیا۔ اس معاملہ کا سنگین نوٹ لیتے ہوئے کمیشن نے حیدرآباد میں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف جرائم میں اضافہ پر تشویش کا اظہار کیا۔ کمیشن نے کہا کہ پولیس کا رول نہ صرف تحفظ کرنا ہے بلکہ جرائم کو روکنا ہے۔ ایسے معاملات میں پولیس کو فوری کارروائی کرنی چاہیئے۔ کمیشن کی صدرنشین ریکھا شرما نے ڈائرکٹر جنرل پولیس تلنگانہ کو فوری مداخلت کرنے کی ہدایت دی اور اندرون سات یوم تفصیلی رپورٹ روانہ کرنے کی ہدایت دی۔ رپورٹ میں خواتین اور لڑکیوں کے تحفظ کیلئے حکومت کے اقدامات کی تفصیلات بیان کی جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا تدارک کیا جاسکے۔ کمیشن نے مکتوب کی نقل کمشنر پولیس حیدرآباد کو روانہ کی ہے۔ ر