پی چدمبرم …سابق مرکزی وزیر داخلہ و فینانس
کاکروچ ( جھینگر ) کوئی برا لفظ یا گالی نہیں ہے ، وکی پیڈیا کے سرچ سے اس بات کا انکشاف ہوا کہ جھینگر اس کرہ ارض پر 200 ملین برسوں سے پائے جاتے ہیں ۔ جھینگروں کے اپنی بنیادی جسمانی ڈھانچہ کے ساتھ دو سو ملین برسوں سے موجودگی کے ثبوت و شواہد ملتے ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ کاکروچ انسانوں سے 199700000 سال پہلے زمین پر موجود تھے اور جھینگروں کے بارے میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ وہ سب سے پہلے آفریقہ میں 30000 سال پہلے منظرعام پر آئے اس طرح جھینگروں نے اس دنیا میں موجود اپنے حق کا دعویٰ انسانوں سے پہلے کیا ۔
سائنس انسائیکلو پیڈیا ہمیں یہ بتاتی ہے کہ جھینگر لوگوں کو کتر نہیں کھاتے ( کاٹتے نہیں ) یا لوگوں پر حملہ نہیں کرتے اس کے برعکس جھینگر انسانوں پر حملہ نہیں کرتے ہاں جھینگر یقینا بیکٹریا پھیلاتے ہیں ، امراض منتقل کرنے کا باعث بنتے ہیں اور مختلف قسم کی الرجی پیدا کرنے کی وجہ بنتے ہیں ۔ دوسری طرف انسان بھی بیکٹریا پھیلاتے ہیں ، بیماریاں منتقل کرتے ہیں اور مختلف قسم کی الرجی کا بھی باعث بنتے ہیں ۔ ( خاص طورپر حریف گروپوں میں الرجی پھیلاتے ہیں) بعض انسان جھینگروں کو خوفناک سمجھتے ہیں جسے بعض انسان دوسروں انسانوں کو خوفناک تصور کرتے ہیں ۔
ہلچل اور خوف : کچھ دن قبل ایک ممتاز شخصیت نے جھینگروں کو جگادیا ۔ خدا اُس شخصیت پر رحم کرے انھوں نے فوراً وضاحت کی کہ ان کا اشارہ دراصل جعلی ڈگریوں کے حامل جعلی وکیلوں کی طرف تھا جو آج کل بہت زیادہ تعداد میں گھوم پھر رہے ہیں ۔ خاص طورپر عدالتوں میں گھوم پھر رہے ہیں ۔ ایسے جعلی ایڈوکیٹس یقینا برے ناموں سے پکارے جانے کے مستحق ہیں۔ مگر ادب و احترام کے ساتھ عرض ہے کہ جھینگر نہیں ۔ ایک مرتبہ جب کاکروچ بیدار ہوجائیں تو پھر بیدار ہی رہتے ہیں جب بیدار جھینگروں نے ایک سماجی جماعت بنالی ایک ایکس ہینڈل شروع کیا ایک ویب سائیٹ کی تخلیق کی اور ایک انسٹاگرام ہینڈل کھولا ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ کاکروچ جنتا پارٹی کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر فالوورس کی تعداد 22 ملین ہوگئی تھی ( یہ تعداد فالوورس کی آخری گنتی کے وقت کی ہے ) جیسے ہی ممتاز شخصیت نے لفظ کاکروچ کا استعمال کیا جن ( نوجوانوں ) کیلئے یہ لفظ استعمال کیا گیا ان میں ایک نیا جوش و ولولہ شروع ہوا اور بیدار کئے گئے جھینگروں نے جوابی وار کیا ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انسان خود دہل کر رہ گئے اور خوفزدہ ہوگئے ۔
راقم الحروف کا خیال ہے کہ انسان اپنی کولہا پوری چپلوں میں کانپ رہے ہیں ، ورنہ بھارت کی سب سے بڑی انتظامی طاقت جس کے پاس 1.45 ملین فعال فوجی ہیں ، 4200 جنگی دبابے ، 800 لڑاکا طیارے ، 270 بحری جہاز ، 2 طیارہ بردار جہاز ، سینکڑوں جوہری ہتھیار اور ریزرو بینک آف انڈیا سے نفع کی شکل میں 2,86,588 کروڑ روپئے موجود ہیں اس قدر زیادہ آلات حربی و دولت کے باوجود حکومت اچانک خوف و دہشت میں مبتلا ہوجاتی ہے اور اس کی خوف و دہشت کی وجہ یہ رہی کہ ایک 30 سالہ نوجوان ابھیجیت دیپکے نے X پر کاکروچ پارٹی آف انڈیا CJP کا ہینڈل کھولا اور ڈیجیٹل پارٹی یعنی کاکروچ پارٹی آف انڈیا کے نقیب بن گئے ۔ اُنھیں سی جے پی کا مشعل بردار بھی کہا جاتا ہے لیکن حکومت ایک 30 سالہ نوجوان کی جانب سے شروع کردہ سی جے پی مہم سے اس قدر خوفزدہ ہوگئی کہ اس نے X سے کہا کہ وہ CJP کا ہینڈل بند کردے ۔ مسٹر دیپکے ایک دوردراز ملک میں تعلقات عامہ یا پبلک ریلیشن ( خطرناک مصنوعی ذہانت میں نہیں ) میں ماسٹرس کررہے ہیں اور یہ سب ہمارے دوست و دشمن ٹرمپ کی نگرانی میں ہورہا ہے۔
ویب سائیٹ پر کاکروچ جنتا پارٹی کے جو اغراض و مقاصد بتائے گئے ہیں وہ کچھ اس طرح ہے ’’ہم کاکروچ کی شناخت اپناتے ہیں ۔ اگر نوجوانوں کی آواز بتانے کیلئے یہی ضروری ہے ‘‘ ۔ اپنے نعرہ ’’ونست اور بیروزگاروں کی آواز ‘‘ کے ساتھ CJP دعویٰ کرتی ہے کہ وہ ان لوگوں کی نمائندگی کرتی ہے جنھیں ہمارے ملک کا نظام شمار کرنا بھول گیا ۔ وہ چاہتے ہیں کہ بیروزگار سست و کاہل ہروقت آن لائن رہنے والے اور پیشہ ورانہ انداز میں اپنا غصہ نکالنے لوگ سی جے پی میں شامل ہوں جبکہ یہ بھی کہا گیا کہ وہ گاندھی، امبیڈکر اور نہرو سے متاثر ہیں۔ کاکروچ جنتا پارٹی کا منشور انسان کو ہنسنے اور سوچنے پر مجبور کرتا ہے جبکہ عام سیاسی جماعتوں کا منشور انسان کو گہری نیند میں پہنچادیتا ہے ۔ ایسی نیند جس میں انسان سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتا ہے۔
یہی اہم وجہ ہے : راقم الحروف کے خیال میں سی جے پی عوام میں پھیلی ہوئی مایوسی ، پریشانی اور غصہ و برہمی پر انحصار کررہی ہے ۔ خاص طورپر نوجوانوں اور نوجوان خواتین میں پائے جانے والے غصہ و برہمی پر اس کا انحصار ہے اور اس کی کئی وجوہات بھی ہیں جن میں بیروزگاری ، پٹرول و ڈیزل کی قلت اور ان کی بڑھتی قیمتیں وغیرہ شامل ہیں۔ جہاں تک پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کا سوال ہے نقل و حرکت جھینگروں کی زندگی کی بنیاد ہے اورایسے میں پٹرول و ڈیزل کی آسماں کو چھوتی قیمتیں اُن کی نقل و حرکت محدود کردیتی ہیں۔ آپ کو بتادیں کہ دہلی میں پٹرول کی فی لیٹر قیمت 102.12 روپئے اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 95.20 روپئے ہے اور یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ بی جے پی کے حق میں ووٹ کا استعمال کرنے والے کولکتہ کے مکینوں کو یہ انعام دیا گیا کہ پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا ۔ چنانچہ کولکتہ میں فی لیٹر پٹرول کی قیمت 113.51 روپئے اور ڈیزل کی قیمت 99.82 روپئے فی لیٹر ہوگئی ۔
بیروزگاری : ملک میں بیروزگاری کی شرح 5.2 فیصد ہے جبکہ نوجوانوں میں بیروزگاری کی شرح 16-17 فیصد پائی جاتی ہے ۔ افرادی قوت 64.3 اور محنت کشوں کی شرح شرکت 60 فیصد ہے مابقی 40 فیصد یا تقریباً 25 کروڑ مجھے معاف کیجئے جھینگر ہیں جیسا کہ ملک کی ایک بااثر شخصیت نے اُنھیں جھینگر قرار دیا ہے۔ اگر سی جے پی تمام جھینگروں کے ووٹ حاصل کرے گی تو یقینا وہ حکومت تشکیل دے گی ( 2024 ء کے عام انتخابات میں بی جے پی نے 23.6 کروڑ ووٹ جبکہ کانگریس نے 13.7 کروڑ ووٹ حاصل کئے تھے ) ۔
فیکٹریوں میں ملازمتیں : جھینگر اُن کی تعریف و تشریح کے مطابق سست و کاہل ہوتے ہیں چونکہ وہ الصبح اُٹھ کر محلہ کی شاکھا میں شرکت نہیں کرتے اس لئے اُنھیں کبھی سرکاری ملازمت حاصل نہیں ہوگی ۔ ایسے میں اُن کے لئے بہترین راستہ فیکٹری کی نوکری ہے ۔ Mo SPI کے مطابق ہندوستان میں 260061 رجسٹرڈ فیکٹریاں ہیں جس میں تخمیناً 1.95 کروڑ ملازمتیں پائی جاتی ہیں اور اُن میں بہت ساری ملازمتیں مصنوعی ذہانت کی وجہ سے ختم ہوجائیں گی اور اس طرح 25 کروڑ جھینگروں کو کبھی فیکٹریوں کی نوکریاں نہیں ملیں گی ، اسی وجہہ سے ان جھینگروں ( بیروزگار نوجوانوں ) میں مایوسی پائی جاتی ہے ۔
خاندانی تعاون : جھینگروں کو اُن کے اپنے خاندان بالخصوص مائیں مدد کرتی ہیں ۔ ماہانہ 5 کلوگرام مفت اناج گھر لانے کے عوض جھینگروں کو خاندان سے چھوٹی یا معمولی سی مالی مدد ملتی ہے اور وہ شدید معاشی تنگی کا شکار رہتے ہیں ۔ چونکہ گھریلو قرض قومی مجموعی پیداوار کا 42 فیصد ہے اور گھریلو بچت صرف GDP یا قومی مجموعی پیداوار کے 6.6 فیصد کے برابر ہے اس لئے جھینگروں کو خاندانوں سے بہت کم مالی مدد ملتی ہے۔
وکست بھارت کے ارب پتی : جھینگر کو اُمید تھی کہ وہ وکست بھارت یا ترقی یافتہ بھارت میں ارب پتی بن جائیں گے تاہم بی جے پی کے 12 سالہ اقتدار میں ارب پتیوں کی تعداد بڑی سست رفتاری سے بڑھ رہی ہے ۔ ہمارے ملک میں ارب پتیوں کی موجودہ تعاد 205 ہے اور 25 کروڑ جھینگر یا کاکروچ ارب پتی بننے کی قطار میں کھڑے ہیں یا ارب پتی بننے کے منتظر ہیں۔ ساتھ ہی یہ کاکروچ اُن 15 لاکھ روپیوں کا بھی انتظار کررہے ہیں جس کا وعدہ 2014 ء میں مودی نے اچھے دن آئیں گے کے ساتھ کیا تھا ۔
دوسری طرف جھینگروں نے مایوسی کے عالم میں کاکروچ اکنامک اڈوائیزری سے رجوع کیا لیکن اُن کا مشورہ بھی مایوس کن تھا ۔ اکنامک اڈوائیزر کا کہنا تھا کہ مالی سال 2027 ء میں تجارتی خسارہ بہت زیادہ بڑھ جائے گا ۔ ساتھ ہی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی بڑھے گا ۔ اسی طرح مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا ۔