نظام آباد۔ 8 جولائی ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ضلع میں کہیں بھی زچہ و بچہ کی اموات رونما نہ ہو اس کے لیے تمام متعلقہ محکمے مؤثر اور پیشگی احتیاطی اقدامات کریں۔ ان خیالات کا اظہار ضلع کلکٹر نظام آباد ایلا ترپاٹھی نے کلکٹریٹ کے کانفرنس ہال میں محکمہ صحت کے زیر اہتمام منعقدہ ’’سنکلپ اجلاس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے سرکاری دواخانوں میں معمول کے مطابق ہونے والے نارمل زچگی کے معاملات میں اضافہ کرنے اور حاملہ خواتین کو معیاری طبی خدمات فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔کلکٹر ایلا ترپاٹھی نے کہا کہ ہر حاملہ خاتون کا سرکاری دواخانوں میں بروقت اندراج یقینی بنایا جائے اور حمل کے ابتدائی مرحلے سے ہی تمام ضروری طبی معائنے انجام دیے جائیں۔ اس موقع پر ضلع کلکٹر نے خصوصی انتخابی فہرست جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے سلسلے میں تمام طبی افسران اور ملازمین کو ہدایت دی کہ وہ 24 ؍جولائی تک اپنی مردم شماری کے فارم (اینومریشن فارم) متعلقہ بوتھ لیول افسران (بی ایل اوز) کے حوالے کریں، بصورت دیگر حق رائے دہی سے محرومی کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے نفاذ کے دوران متعدد ایسے افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جنہوں نے اینومریشن فارم جمع نہیں کرائے تھے۔ اجلاس میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اینڈ فیملی ویلفیئر کی گورننگ کونسل کی چیئرپرسن ڈاکٹر کویتا ریڈی، ضلع میڈیکل اینڈ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر راج شری، دیگر طبی افسران اور محکمہ صحت کے عملے نے شرکت کی۔