دوبارہ صدر منتخب نہ ہو سکا تو اسرائیل ختم ہو جائے گا: ٹرمپ

   

میری ناکامی کیلئے امریکہ میں آباد یہودی بھی ذمہ دار ہوں گے، امریکہ۔ اسرائیل قومی کنونشن سے صدارتی امیدوار کا خطاب

واشنگٹن : امریکہ کے سابق صدر اور ری پبلکن صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر وہ دوبارہ صدر منتخب نہ ہو سکے تو اسرائیل دو سال میں ختم ہو جائے گا۔ واشنگٹن میں اسرائیلی امریکن کونسل کے قومی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ان کی ناکامی کی ذمہ داری امریکہ میں آباد یہودیوں پر بھی عائد ہوگی۔ ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ افسوسناک طور پر دیکھ رہے ہیں کہ امریکی یہودیوں میں ان کی مقبولیت اور حمایت میں کوئی اضافہ نہیں ہو رہا۔ 65 فیصد امریکی یہودی ڈیموکریٹ امیدوار کملاہیریس کے حامی ہیں، جو ان کے مطابق تشویش ناک ہے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ڈیموکریٹس، لبرل اور بائیں بازو کے انتہا پسند عناصر کی حمایت حاصل ہے، جو انہیں قتل کرنے کی کوشش میں ہیں۔ سابق صدر نے کہا کہ امریکی یہودیوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اسرائیل کی بقا کے لیے ان کا دوبارہ صدر بننا ضروری ہے۔ انہوں نے ڈیموکریٹس پر اسرائیل مخالف ہونے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ کملاہیریس اس حوالے سے کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کر چکی ہیں۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ میں حالات بدل چکے ہیں اور نئی پالیسیاں ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق متوازن پالیسیوں کے لیے ضروری ہے کہ ری پبلکن پارٹی دوبارہ ایوانِ صدر میں آئے۔ واشنگٹن میں ایک اور تقریب کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ امریکی یہودیوں کو اپنے مستقبل کے لیے معقول فیصلہ کرنا ہوگا۔ اگر وہ ڈیموکریٹس کو ترجیح دیتے ہیں تو مشکلات کا سامنا کریں گے۔ اگر ٹرمپ دوبارہ منتخب ہوئے تو جنوری 2025 میں ان کی حلف برداری عمل میں آئے گی۔