دوسروں کی غیر قانونی سرگرمیوں کی سزا غریب عوام بھگتنے پر مجبور

   

نظام آباد کے دھرم پوری اور دیگر سلم علاقوں میں برسوں سے مقیم عوام کے مکانات کے تحفظ کو خطرہ، حقائق کی بنیاد پر مسئلہ کا مستقل حل ضروری
نظام آباد 8 اکتوبر (محمد جاوید علی کی رپورٹ) نظام آباد شہر کے دھرم پوری ہلز، ناگارام، ابراہیم نگر، ڈوڈو کومریہ کالونی، اسد بابا نگر، بابن صاحب پہاڑی، پینٹرز کالونی، بہوجن کالونی اور اطراف کی دیگر آبادیوں میں گزشتہ کئی برسوں سے مقیم غریب اور متوسط طبقے کے خاندانوں کو اراضی اور مکانات سے متعلق مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ محکمہ جنگلات کی جانب سے مبینہ طور پر ریزرو فاریسٹ اراضی پر تعمیر کیے گئے مکانات کے سلسلے میں 183 خاندانوں کو نوٹس جاری کیے جانے کے بعد متاثرہ مکینوں میں تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔ محکمہ جنگلات کے مطابق نظام آباد نارتھ رینج کے حدود میں 2004 سے 2022 کے درمیان ریزرو فاریسٹ اراضی پر تعمیر کیے گئے مکانات، جھونپڑیوں اور شیڈس کی نشاندہی کے بعد گزشتہ چند دنوں سے گھر گھر پہنچ کر نوٹس حوالے کیے گئے ہیں۔ ببان صاحب پہاڑ، ڈوڈو کومریہ کالونی اور پینٹرز کالونی کے مکین بھی اس کارروائی سے متاثر ہوئے ہیں۔ محکمہ جنگلات کے عہدیداروں کے مطابق سروے نمبر 1809 کے تحت تقریباً 8 ایکڑ 24 گنٹہ ریزرو فاریسٹ اراضی پر تجاوزات اور تعمیرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ نظام آباد نارتھ رینج کے فاریسٹ آفیسر سنجے گوڑ نے بتایا کہ ریزرو فاریسٹ کے علاقے میں تقریباً 50 مربع گز کے رقبے پر عارضی رہائشیں تعمیر کرنے والے افراد کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں اور انہیں ایک ہفتے کے اندر اپنا جواب داخل کرنا ہوگا، جس کے بعد جوابات کا جائزہ لے کر ضلع فاریسٹ آفیسر آئندہ کارروائی کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔ دوسری جانب متاثرہ خاندانوں نے بتایا کہ معاملہ صرف حالیہ نوٹسوں تک محدود نہیں بلکہ ان علاقوں میں اراضی کی الاٹمنٹ، پٹہ جات، خرید و فروخت اور مکانات کی تعمیر کا سلسلہ گزشتہ دو دہائیوں سے جاری ہے اور بعض خاندانوں نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی خرچ کرکے یہاں مکانات تعمیر کیے ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق متحدہ آندھرا پردیش کے دور حکومت میں بے گھر غریبوں، بیڑی مزدوروں، دڑوائی مزدوروں، حمالوں، چٹہ ورکرس، ڈرائیورس اور پینٹرس سمیت مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کو بعض علاقوں میں رہائشی اراضی کے پٹہ جات فراہم کیے گئے تھے، جس کے بعد مختلف کالونیاں وجود میں آئیں۔ انہوں نے بتایا کہ بعض اراضی ریونیو حدود میں تھی، جہاں ہاؤزنگ بورڈ کے ذریعہ راجیو گِرہا کلپا اسکیم کے تحت مکانات کے علاوہ انفرادی مکانات بھی تعمیر کیے گئے، تاہم بعد میں بعض پٹہ داروں کے وہاں سکونت اختیار نہ کرنے کے باعث دیگر افراد کی جانب سے قبضوں اور تعمیرات کی شکایات سامنے آئیں اور بعض مقامات پر یہ تعمیرات ریزرو فاریسٹ کی حدود تک پہنچنے کا معاملہ محکمہ جنگلات کی جانب سے اٹھایا گیا ہے۔ اسی پس منظر میں ناگارم کے 11ویں ڈویژن میں واقع بہوجن کالونی کے مکینوں نے محکمہ جنگلات کی جانب سے جاری کردہ انفرادی نوٹسوں کا باقاعدہ جواب داخل کرتے ہوئے گزشتہ تقریباً 20 سال سے مقیم خاندانوں کے رہائشی مسئلہ کا مستقل حل فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ بہوجن کالونی ڈیولپمنٹ کمیٹی، رجسٹریشن نمبر 128/2020 کی جانب سے پیش کردہ جواب میں کہا گیا ہے کہ ناگارم کے سروے نمبر 2164 میں سال 2005 کے دوران ریونیو حکام کی جانب سے بعض خاندانوں کو مکانات کے پٹہ جات اور رہائشی پلاٹس مختص کیے گئے تھے، جس کے بعد بہوجن کالونی، ڈوڈو کمریہ کالونی، اسد بابا نگر، 300 کوارٹرس، ڈی ایس کالونی، ابراہیم نگر، پینٹرز کالونی اور دھرم پوری پٹہ سمیت مختلف علاقوں میں مکانات تعمیر کرکے لوگ طویل عرصے سے رہائش پذیر ہیں۔ کالونی کے مکینوں نے اپنے مؤقف کی تائید میں کہا ہے کہ یہاں مختلف سرکاری محکموں کی جانب سے گزشتہ برسوں کے دوران بنیادی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔ محکمہ برقی نے برقی کے کھمبے نصب کرکے گھروں کو برقی میٹر فراہم کیے، میونسپل کارپوریشن نے پینے کے پانی کی پائپ لائن بچھاکر نل کنکشن فراہم کیے، مکانات پر پراپرٹی ٹیکس عائد کیا گیا اور سڑکوں سمیت دیگر بنیادی ترقیاتی کام بھی انجام دیے گئے۔ مکینوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے مکانات کے پٹہ جات، برقی کے بل اور میٹر سے متعلق دستاویزات، میونسپل ٹیکس کی رسیدیں اور دیگر متعلقہ ریکارڈ بھی حکام کے حوالے کیے ہیں، جن سے ان کی طویل عرصے سے جاری رہائش اور سرکاری محکموں سے تعلق کی صورتحال واضح ہوتی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ محکمہ جنگلات اور محکمہ ریونیو کے عہدیدار مشترکہ طور پر متعلقہ علاقوں کا جامع سروے انجام دیں، سرکاری ریکارڈ، سابقہ پٹہ جات، اراضی کی موجودہ نوعیت اور طویل عرصے سے جاری رہائش کا مکمل جائزہ لیتے ہوئے حقائق کی بنیاد پر مسئلہ کا مستقل حل تلاش کریں۔ دوسری جانب مقامی افراد نے الزام عائد کیا ہے کہ بعض سیاسی دلالوں اور درمیانی افراد نے اراضی کی خرید و فروخت کے نام پر غریب عوام کو مبینہ طور پر گمراہ کیا اور سستے داموں پلاٹ یا مکان حاصل کرنے کی خواہش رکھنے والے دوسرے علاقوں سے آنے والے کئی خاندانوں نے اپنی جمع پونجی خرچ کرکے اراضی خریدی، جس کے بعد اب انہیں قانونی تنازعات اور محکمہ جاتی نوٹسوں کا سامنا ہے۔ اراضی سے متعلق مبینہ دھوکہ دہی کے معاملات میں پولیس سے رجوع کیے جانے کے واقعات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق تقریباً دو سال قبل سابق میئر نیتو کرن کے شوہر شیکھر سے متعلق پلاٹ کی فروخت کے معاملے میں آٹو ڈرائیور شیخ رسول اور درمیانی فرد گوپال کے درمیان تنازع پیدا ہوا تھا، جس کے دوران شیکھر پر حملہ کیے جانے کی شکایت سامنے آئی اور پولیس نے شیخ رسول کو گرفتار کرنے کے ساتھ گوپال کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا تھا۔ حالیہ دنوں سید عظیم کی اہلیہ ممتاز بیگم کے ساتھ مبینہ طور پر دھکا دیے جانے کے واقعہ کے بعد ان کی طبیعت تشویشناک ہونے پر انہیں دواخانہ منتقل کیا گیا، تاہم بعد ازاں ان کی موت واقع ہوگئی۔ اس واقعہ کے سلسلے میں 5 ٹاؤن پولیس سے شکایت کے بعد چھ افراد کے خلاف مقدمہ درج کیے جانے اور مزید دو افراد کے رول کی تحقیقات جاری ہونے کی اطلاع ہے۔ معاملہ کی جامع تحقیقات کے لیے پولیس کمشنر سائی چیتنیا سے بھی نمائندگی کی گئی ہے۔ اس مجموعی صورتحال کے پیش نظر متاثرہ خاندانوں اور عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جنگلاتی اراضی کے تحفظ اور قانون کی عمل آوری کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ان خاندانوں کے حقوق، سابقہ سرکاری پٹہ جات اور متعلقہ دستاویزات کا بھی غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے جو برسوں سے وہاں رہائش پذیر ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ ہر غریب خاندان کا خواب ہوتا ہے کہ اس کے پاس اپنا ایک گھر ہو اور اسی امید میں کم قیمت پر اراضی خرید کر گھر تعمیر کرنے والے کئی خاندان آج قانونی پیچیدگیوں کے باعث پریشان ہیں۔ لہٰذا محکمہ جنگلات اور محکمہ ریونیو کا مشترکہ سروے، اراضی کے ریکارڈ کی مکمل جانچ اور حقیقی متاثرین کی شناخت ضروری ہے تاکہ جنگلاتی اراضی کا تحفظ بھی برقرار رہے اور کسی ایسے خاندان کو محض دوسروں کی مبینہ دھوکہ دہی یا غیر قانونی سرگرمیوں کی سزا نہ بھگتنی پڑے جس نے سرکاری دستاویزات اور بنیادی سہولتوں کی موجودگی میں برسوں سے وہاں سکونت اختیار کر رکھی ہے۔ ساتھ ہی عوام نے اراضی کے نام پر مبینہ دھوکہ دہی کرنے والے دلالوں اور درمیانی افراد کی نشاندہی کرکے قانون کے مطابق کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ مستقبل میں غریب اور کم آمدنی والے خاندان دوبارہ ایسے تنازعات اور دھوکہ دہی کا شکار نہ ہوں۔