یونیسکو میں تلنگانہ کے تہذیبی ورثہ کا ایک اور اضافہ
حیدرآباد۔27۔نومبر(سیاست نیوز) دوما کنڈہ قلعہ کاماریڈی کویونیسکو کا ایشیاء ۔ پسیفک ایوارڈ حاصل ہونے کے بعد ریاست تلنگانہ میں یونیسکو کے ایوارڈ یافتہ تہذیبی ورثہ میں ایک اور مقام کا اضافہ ہوا ہے ۔یونیسکو کی جانب سے ایشیاء ۔پسیفک کے خانگی تہذیبی ورثہ کی نگہداشت اور اس کی عظمت رفتہ کو بحال کئے جانے پریہ ایوارڈ یا گیا ہے ۔دوماکنڈہ قلعہ جو کہ دوماکنڈہ سمستھانم کے ورثاء انیل کامینینی اور ان کی اہلیہ شوبھنا کی جانب سے محترمہ انورادھا نائک کی نگرانی میں عظمت رفتہ کو بحال کرنے اور اس کے تحفظ کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے گئے جسے یونیسکو نے جاریہ سال موصول ہونے والی 287 درخواستوں کی تنقیح کے بعد 6 ممالک کے ان 13پراجکٹس میں شامل کرتے ہوئے ایوارڈ سے نوازا ہے جو منتخب کئے گئے ہیں۔دوماکنڈہ قلعہ کی تزئین ‘ تحفظ و آہک پاشی کے علاوہ اس کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کے سلسلہ میں کئے جانے والے تمام اقدامات کی نگرانی محترمہ انورادھا نائک کررہی ہیں اور وہ سال 2011 سے اس پراجکٹ کی نگران کے طور پر مصروف ہیں۔ محترمہ انورادھا نائک نے بتایا کہ دوما کنڈہ قلعہ پراجکٹ ایک خانگی پراجکٹ ہے جس پر مسلسل تزئین و تحفظ کا کام جاری ہے اور جاریہ سال کے اواخر تک ان کاموں کو مکمل کرلیا جائے گا۔ اس تاریخی قلعہ کی تہذیبی اہمیت کے تحفظ اور اس کی تزئین کے لئے مقامی کاریگروں کو تربیت فراہم کرتے ہوئے ان سے ممکنہ کام لیا گیا اور مقامی عوام کو بھی اس تاریخی قلعہ کی اہمیت سے واقف کرواتے ہوئے اس کے تحفظ کی صورت میں علاقہ کی اہمیت میں ہونے والے اضافہ سے واقف کروایا جاتا رہا ۔محترمہ انورادھا نائک جو کہ ریاست کی تہذیبی وتاریخی عمارتوں کے تحفظ و تزئین کی ماہر ہیں نے دوماکنڈہ کے علاوہ بیشتر تاریخی عمارتوں کی تزئین میں اپنا کلیدی کردار ادا کیا ہے اور وہ مسلسل اسی شعبہ میں خدمات انجام دے رہی ہیں اور دوماکنڈہ قلعہ کے پراجکٹ کو یونیسکو کی جانب سے ایوارڈ دیا جانا ریاست کے لئے ہی نہیں بلکہ ملک کے لئے بھی اعزاز سے کم نہیں ہے۔دوماکنڈہ پراجکٹ کے تعلق سے انیل کامینینی کاکہنا ہے کہ اس تاریخی اہمیت کے حامل قلعہ کی تزئین کے سلسلہ میں ان کے والد کے اوماپتی کی شخصی دلچسپی کے سبب چند برس قبل اس کا آغاز کیا گیا تھا جو اب قریب الختم ہے۔ م