کورونا کے خاتمہ کیلئے خصوصی دعائیں، حکومت کی پابندیوں اور علماء کرام کی تاکید پر عمل
حیدرآباد: دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے علاوہ ریاست کے تمام اضلاع میں عید الفطر نہایت ہی خشوع وخضوع سے منائی گئی لیکن کسی بھی مقام پر عید الفطر کے کوئی بڑے اجتماعات نظر نہیں آئے بلکہ حکومت کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں کے مطابق شہر کی بڑی مساجد میں نمازیں ادا کی گئی اور علمائے اکرام کی تاکید کو مدنظر رکھتے ہوئے مسلمانوں نے اپنی اپنی قریبی مساجد میں محدود تعداد میں ایک سے زائد جماعتوں میں نماز عید الفطر ادا کی ۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآبا دمیں عید الفطر کے اوقات میں بڑی تعداد میں مسلمانوں نے مساجد میں نماز عید ادا کی لیکن کورونا وائرس کے اصولوں اور علمائے اکرام کی تاکید کا خیال رکھتے ہوئے نماز عید ادا کی گئی ۔ کئی شہریوں نے اپنے گھروں میں نماز عید ادا کرنے کو ترجیح دی اور عید الفطر کو گھر کی حد تک محدود رکھا گیا۔ مکہ مسجد میں نماز عید الفطر کے موقع پر محدود تعداد میں مصلیوں کے ساتھ نماز عید ادا کی گئی اور خطیب وامام مکہ مسجد مولانا حافظ محمد رضوان قریشی نے نماز عید الفطر کی امامت کی اور خطبہ دیا۔ دونوں شہروں میں جن مساجد میں نماز عید الفطر ادا کی گئی ان مساجد میں نماز عید کے ساتھ ہی کورونا وائرس کے خاتمہ کے لئے خصوصی دعاء اور استغفار کیا گیا ۔ عید الفطر کے موقع پر حکومت کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں پر شہریوں کی جانب سے سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا گیا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن میں رعایت کے اوقات کار صبح 6 تا10بجے دن ہیں اور نماز عید بھی اس مدت کے دوران ہی ادا کی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود حکومت کی جانب سے نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد کرنے کے اقدامات کئے گئے لیکن وباء کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے مسلمانوں نے حکومت کی ان پابندیوں کو قبول کرتے ہوئے محدود تعداد میں نماز عید الفطر ادا کی اور عیدگاہوں میں کوئی اجتماعات منعقد نہیں کئے گئے ۔ بعض علماء نے حکومت کی پابندیوں پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ مصیبت اور آفت کے وقت رجوع الی اللہ ہونے کے احکام ہیں تاہم ایسے وقت میں عبادات میں خلل پیدا کرنے کے اقدامات کئے گئے جو کہ مناسب نہیں ہیں۔ عید الفطر کے موقع پر شہر حیدرآباد میں کمشنر پولیس انجنی کمارآئی پی ایس نے پرانے شہر کا دورہ کرتے ہوئے سنسان سڑکوں کی ویڈیو شئیر کرتے ہوئے عید کی مبارکباد پیش کی اور شہریوں سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ عید الفطر کے باوجود شہریوں نے لاک ڈاؤن اور حکومت کی جانب سے عائد پابندیوں پر عمل کرتے ہوئے یہ ثابت کیا ہے کہ کورونا وائرس کے خاتمہ کی لڑائی میں سب یکساں اور متحد ہیں۔ عید الفطر کے موقع پر مساجد کے قریب محکمہ پولیس کی جانب سے پکٹس کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی تاکہ امن و امان کی برقراری کو یقینی بنایا جاسکے۔ شاہی مسجد باغ عامہ میں مولانا حافظ احسن بن محمد عبدالرحمن الحمومی نے نماز فجر کے کچھ دیر بعد نماز عید الفطر کی امامت کی اور اس وقت بھی مسجد میں محدود تعداد میں مصلی موجود تھے بعد ازاں انہوں نے خطبہ عید الفطر دیا ۔ اسی طرح شہر حیدرآباد کی بیشتر مساجد میں نماز عید الفطر فجر کے فوری بعد محدود تعداد میں مصلیوں کے ساتھ ادا کرلی گئی اور بعض مساجد میں ایک سے زائد جماعتوں کے انعقاد کے ذریعہ نماز ادا کی گئی ۔شہریوں نے کورونا وائرس کے رہنمایانہ خطوط کے پیش نظر علماء کی جانب سے مصافحہ یا معانقہ اور بغلگیر نہ ہونے کی تاکید کو ملحوظ رکھتے ہوئے سماجی فاصلہ برقرار رکھنے میں بھی کوئی کسر نہیں رکھی اور بغلگیر ہوکر عید کی مبارکباد دینے سے اجتناب کیا گیا ۔لاک ڈاؤن میں رعایت کے اوقات کے اختتام کے ساتھ ہی لوگ اپنے اپنے گھروں کی سمت روانہ ہوگئے اور عید کے دن بھی شہر کی بیشتر سڑکوں پر سناٹا طاری رہا ۔