حیدرآباد ۔ 6 نومبر (سیاست نیوز) شہر میں اس مرتبہ دیوالی میں دو سال بعد پھر فضائی آلودگی میں اضافہ ہوا۔ گذشتہ سال دیوالی میں کوویڈ۔19 کا اثر تھا جبکہ اس سال روشنیوں کا یہ تہوار جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا۔ اس کے بعد جمعرات کو سواپر فائن پرٹیکولیٹ میاٹر PM2.5 سطح میں 81 ug/m3 تک اضافہ ہو جو دو سال میں زیادہ ہے۔ تلنگانہ اسٹیٹ پولیوشن کنٹرول بورڈ (TSPCB) کے ایبمنٹ ایرکوالٹی مانیٹرنگ اسٹیشنس سے حاصل ہوئے ڈیٹا سے یہ بات معلوم ہوئی۔ سال 2019 اور 2020ء میں PM2.5 سطح بالترتیب 72 ug/m3 اور 64uv/m3 تھی۔ نیشنل ایمبینٹ ایرکوالٹی معیارات کے مطابق پی ایم 2.5 کی سالانہ اوسط قدر 40 ug/m3 ہونی چاہئے اور متواتر دو دن 60 ug/m3 سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے۔ ماہرین کا کہنا ہیکہ اس میں مختصر وقت کیلئے بھی اضافہ ہو تو صحت کے مسائل ہوسکتے ہیں اور اس سے صحت کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ سینئر سائنٹسٹ ڈاکٹر بابو راؤ نے کہا کہ پی ایم 2.5 خطرناک ہے کیونکہ اس سے پھیپھڑے متاثر ہوسکتے ہیں۔ 80ug/m3 سے زائد کی پی ایم 2.5 وئیلو زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ الرجیز اور دمہ کے مریضوں کو آئندہ تین دن تک باہر جاتے وقت ماسک پہننا چاہئے کیونکہ یہ مادہ ماحول میں رہتا ہے۔ اس سال صورتی آلودگی بھی گذشتہ سال کے مقابل زیادہ تھی۔ اس سال فضائی اور صوتی آلودگی بہت زیادہ نہ ہونے پر عہدیداروں نے کہا کہ یہ اس بات کی ایک علامت ہوسکتی ہیکہ لوگوں میں ماحولیات سے متعلق زیادہ بیداری پیدا ہورہی ہے۔