دھرانی پورٹل کی آڑ میں بی آر ایس قائدین کے اراضی اسکام کو بہت جلد بے نقاب کیا جائیگا

   

کابینہ میں توسیع ہائی کمان پر منحصر، بی آر ایس کے ارکان ا سمبلی ربط میں، کے ٹی آر کے بیانات ناقابل فہم، ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا کی میڈیا سے بات چیت
حیدرآباد۔/27 نومبر، ( سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ دھرانی پورٹل کی آڑ میں بی آر ایس قائدین کی جانب سے بڑے پیمانے پر اراضیات کے حصول کی تفصیلات بہت جلد عوام کے سامنے پیش کی جائیں گی۔ بھٹی وکرامارکا نے گاندھی بھون میں صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ، رکن قانون ساز کونسل عامر علی خاں اور رکن اسمبلی پریم ساگر کے ہمراہ میڈیا کے نمائندوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ دھرانی پورٹل کے نام پر بی آر ایس قائدین نے ہزاروں ایکر اراضی ہڑپ لی ہے۔ اس معاملہ کی جانچ جاری ہے اور اراضی اسکام کی تفصیلات جلد ہی پیش کی جائیں گی۔ بھٹی وکرامارکا نے ریاستی کابینہ میں توسیع، پارٹی قائدین میں مبینہ اختلافات، حیڈرا اور موسی ریور فرنٹ پراجکٹ جیسے اُمور پر اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس قائدین میں کوئی اختلافات نہیں ہیں اور پارٹی اور حکومت کے درمیان بہتر تال میل پایا جاتا ہے۔ کابینہ میں توسیع سے متعلق سوال پر بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ اس بارے میں ہائی کمان فیصلہ کرے گا۔ انہوں نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ حکومت کے خلاف بیان بازی اور پروپگنڈہ سے اپوزیشن کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ریاست کی ترقی اپوزیشن کو برداشت نہیں ہورہی ہے۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ حیڈرا اور موسی ریور فرنٹ پراجکٹ کے سلسلہ میں حکومت جامع منصوبہ کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے موسی ریور فرنٹ پراجکٹ سے متعلق ہائی کورٹ کے فیصلہ کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ موسی ریور فرنٹ پراجکٹ کے متاثرین کو کاروبار کرنے کیلئے حکومت قرض فراہم کرے گی۔ بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ پر تنقید کرتے ہوئے بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ کے ٹی آر خواب اور خواہشات میں زندگی بسر کررہے ہیں۔ کے ٹی آر کیا کہہ رہے ہیں اور کیوں کہہ رہے ہیں یہ ناقابل فہم ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی کے بارے میں کے ٹی آر کے بیانات پر بھٹی وکرامارکا نے برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کے ٹی آر حکومت کے خلاف من مانی بیانات دے رہے ہیں۔ ان کا انداز چیف منسٹر نہیں بلکہ ایک ضلع کلکٹر کے بارے میں اظہار خیال کی طرح ہے۔ کے ٹی آر کے بیانات سے ان کا ذہن صاف ظاہر ہورہا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے انکشاف کیا کہ بی آر ایس کے تمام ارکان اسمبلی ان سے ربط میں ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بی آر ایس سربراہ کے سی آر اسمبلی اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے قائد اپوزیشن کا رول ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ریونت ریڈی کابینہ میں وزراء کے درمیان کوئی اختلافات نہیں ہیں۔ کابینہ کے تمام فیصلے متحدہ طور پر لئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئے قائدین کی آمد کے موقع پر کچھ دنوں تک نئے اور پرانے قائدین کے درمیان مسائل موجود رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک طویل تاریخ رکھنے والی کانگریس پارٹی کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش محض ایک خواب ہی رہے گی اور یہ کسی سے ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال قبل تلنگانہ اسمبلی کے انتخابات میں عوام نے کانگریس کو اقتدار عطا کیا۔ ریونت ریڈی کی قیادت میں کانگریس حکومت نے انتخابی وعدوں پر عمل آوری کا آغاز کیا ہے۔ عوام نے بی آر ایس کو اپوزیشن کے رول تک محدود کردیا۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ ترقی پسند نظریہ، ویلفیر اور ڈیولپمنٹ جیسے تین اہم نکات کے ساتھ کانگریس حکومت آگے بڑھ رہی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ میں انٹیگریٹیڈ اقامتی اسکولوں کیلئے ایک سال میں 5 ہزار کروڑ خرچ کئے جارہے ہیں۔1