نئی دہلی، 21جولائی (یو این آئی) مجوزہ ہند۔امریکہ تجارتی معاہدے کے خلاف مظاہرے میں حصہ لینے کیلئے پنجاب سے دہلی آ رہے سینکڑوں کسانوں کو منگل کو شمبھو بارڈر پر روک دیا گیا۔ ہریانہ پولیس نے ناکہ بندی کر کے کسانوں کو ریاست میں داخل ہونے سے روک دیا ہے ۔ کسان ‘دیش بچاؤ مورچہ’ کے بینر تلے منعقدہ ‘کسان مہاپنچایت’ کیلئے قومی راجدھانی میں کسان گھاٹ جا رہے تھے ، جہاں کسانوں اور کئی کسان تنظیموں کے نمائندوں نے مجوزہ تجارتی معاہدے کی مخالفت کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ کسان مزدور مورچہ کے لیڈر سرون سنگھ پندھیر نے کہا کہ اس اجلاس میں پنجاب، ہریانہ، راجستھان اور ہماچل پردیش سے کسانوں کے شامل ہونے کی امید تھی۔ ان کے مطابق، اس احتجاجی مظاہرے کا مقصد مجوزہ معاہدے کے سبب زرعی شعبے اور دیہی معیشت پر پڑنے والے دور رس نتائج کو اجاگر کرنا تھا۔ کسان تنظیموں کا استدلال ہے کہ مجوزہ تجارتی نظام کے تحت زرعی درآمدات پر رکاوٹوں کو کم کرنے سے ہندوستانی کسانوں کو سستی غیر ملکی مصنوعات کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔
، جس سے کسانوں، زرعی مزدوروں، ڈیری کسانوں، مویشی پالنے والوں اور چھوٹے تاجروں پر اثر پڑے گا۔ انہیں یہ بھی ڈر ہے کہ یہ معاہدہ صرف زراعت تک محدود نہ رہ کر ڈیری، مینوفیکچرنگ، ڈیجیٹل کامرس، ای کامرس، سرکاری خریداری، املاک دانش کے حقوق اور سروس سیکٹر تک بھی پھیل سکتا ہے ۔ مظاہرین گروہوں نے مرکزی سرکار سے التجا کی ہے کہ وہ مجوزہ تجارتی معاہدے کو آگے نہ بڑھائے ، کیونکہ یہ زراعت پر منحصر لاکھوں لوگوں کے روزگار کو نقصان پہنچا سکتا ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سرکار مجوزہ معاہدے کو منسوخ کرے اور کسانوں نیز عام شہریوں کے مفادات کو ترجیح دے ۔ مجوزہ تجارتی معاہدے کی مخالفت گزشتہ کئی ہفتوں سے پنجاب میں بڑھ رہی ہے ، جہاں کئی کسان یونینوں نے معاہدے کے خلاف حمایت حاصل کرنے کیلئے مظاہروں اور موٹر سائیکل ریلیوں کا اہتمام کیا ہے ۔ شمبھو بارڈر پر سکیورٹی کے انتظامات نے فروری 2024 کی یادیں تازہ کر دیں، جب ہریانہ پولیس نے تمام فصلوں پر کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کی قانونی ضمانت کے مطالبے کے حق میں کسان یونینوں کے ذریعے شروع کیے گئے ‘دہلی چلو-2’ مارچ کو روکنے کیلئے کئی جگہوں پر بیری کیڈ لگا کر پنجاب-ہریانہ سرحد کو سیل کر دیا تھا۔ اس تعطل کی وجہ سے بالآخر کسان ایک سال سے زیادہ عرصے تک شنبھو اور کھنوری سرحدوں پر ڈٹے رہے تھے ۔