دہلی پولیس کی جہانگیر پوری تشدد معاملہ میں وزارت داخلہ کو رپورٹ

   

نئی دہلی: دہلی پولیس نے جہانگیر پوری تشدد معاملے میں اپنی ابتدائی رپورٹ وزارت داخلہ کو سونپ دی ہے ۔ذرائع کے مطابق اس معاملے کی جانچ کررہی دہلی پولیس کی شاخ نے عبوری رپورٹ وزارت داخلہ کو سونپ دی ہے ۔اس رپورٹ میں تشدد کی وجہ مجرمانہ سازش بتائی گئی ہے ۔پولیس نے اپنی رپورٹ میں وزارت داخلہ کو تشدد کے واقعہ سے متعلق معلومات اور اس سے نمٹنے کیلئے اس کے ذریعہ اٹھائے گئے اقدامات کی معلومات دی ہے ۔رپورٹ میں اب تک کی گئی جانچ کی بنیاد پر تشدد کے پیچھے کسی سازش کی بات کہی گئی ہے ۔دہلی پولیس اس معاملے میں ہفتے کی رات سے ہی جانچ میں لگی ہوئی تھی اور اس نے اب تک قریب 25 لوگوں کو گرفتار کیا ہے ۔اس کے علاوہ بڑی تعداد میں لوگوں سے واقعہ کے بارے میں پوچھ تاچھ کی جارہی ہے ۔ذرائع کے مطابق پولیس کو یہ بھی معلومات ملی ہے کہ شوبھایاترا نکالنے کیلئے متعلقہ افسروں سے عمل کے مطابق اجازت نہیں لی گئی تھی۔پولیس نے اس بات کو کافی سنجیدگی سے لیا ہے اور منتظمین کیخلاف بھی اس معاملے میں کارروائی کی جارہی ہے ۔ جہانگیرپوری میں ہفتے کو ہنومان جینتی کے موقع پر جب شوبھایاترا نکالی جارہی تھی توجلوس پر کچھ لوگوں نے پتھراؤ کیا۔اس کے بعد تشدد اور آتشزدگی کے واقعات بھی ہوئے ۔تشدد میں پولیس اہلکاروں سمیت کئی لوگ زخمی ہوگئے تھے ۔مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے دہلی پولیس کے اعلی افسروں سے بات کرکے انہیں دارالحکومت میں امن و قانون کی حالت کو برقرار رکھنے کی ہدایت دی تھی۔ساتھ ہی انہوں نے قصورواروں کیخلاف سخت کارروائی کرنے کو بھی کہاتھا۔