ذات پات پر مبنی مردم شماری آنے والی نسلوں کیلئے فائدہ مند: محمد علی شبیر

   

این آر سی کے بارے میں گمراہ کن پروپگنڈہ ، مسلمان بی سی (ای) میں نام درج کریں
حیدرآباد ۔8۔نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں پسماندہ طبقات کی معاشی ، تعلیمی اور سماجی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے جاری مردم شماری کا این آر سی سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ آر ایس ایس اور بی جے پی مسلمانوں کو مردم شماری سے دور رکھنے کیلئے گمراہ کن پروپگنڈہ کر رہے ہیں تاکہ مسلمانوں کی پسماندگی حکومت کے ریکارڈ شامل نہ ہو۔ تلنگانہ حکومت کے مشیر برائے اقلیت و کمزور طبقات محمد علی شبیر نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ فرقہ پرست طاقتوں کے بہکاوے میں نہ آئیں اور مردم شماری میں حصہ لیتے ہوئے اپنی کاسٹ اور دیگر تفصیلات درج کریں۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں آنے والی نسلوں کیلئے تعلیمی اور معاشی اسکیمات میں مناسب حصہ داری کیلئے مردم شماری میں حصہ لینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں سے یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ کانگریس حکومت بی جے پی کے ایجنڈہ پر عمل پیرا ہے اور جاریہ مردم شماری این آر ایس سی کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں پسماندہ طبقات بشمول اقلیتوں کی حقیقی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے مردم شماری کا فیصلہ کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ سروے کے تحت 75 سوالات شامل کئے گئے ہیں اور مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ سوالنامہ میں اپنی کاسٹ کے بارے میں درست معلومات درج کریں۔ انہوں نے کہا کہ تحفظات کی فراہمی کے وقت بھی مسلمانوں کو الجھن میں مبتلا کرنے کی کوشش کی گئی لیکن تحفظات کے نتیجہ میں دونوں تلگو ریاستوں کے 22 لاکھ طلبہ کو اعلیٰ تعلیم میں فائدہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ سوالنامہ میں مختلف کوڈ کے تحت معلومات فراہم کی گئی ہے ۔ ایسے طبقات جو تحفظات کے زمرہ میں شامل نہیں ، وہ OC زمرہ میں اپنا نام درج کرائیں، جن میں سید ، مغل ، عرب اور پٹھان شامل ہیں۔ بی سی (بی) میں لداف، نور باش، دودے کولا اور پنجاری طبقات کو شامل کیا گیا ہے ۔ بی سی (ای) زمرہ کے تحت 70 تا 80 فیصد مسلمان آتے ہیں جن کا 14 طبقات کے تحت احاطہ کیا گیا ہے۔ بی سی ای زمرہ میں شیخ ، قریشی ، سدی ، ترکا کاشا، فقیر ، لبی، حجام ، گوسنگی، گارڈی مسلم ، دھوبی ، عطار جیسے طبقات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی سی ای زمرہ میں نام درج کرنے سے حکومت کے ریکارڈ میں ہمیشہ کیلئے پسماندہ طبقات کے طور پر شامل ہوجائیں گے اور بی سی ای سرٹیفکٹ کے حصول کے علاوہ اسکالرشپ اور دیگر اسکیمات میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو اندیشہ کا شکار ہوئے بغیر سرکاری اسکیمات میں مناسب حصہ داری کیلئے مردم شماری میں حصہ لینا چاہئے ۔ 1