راجیو یوا وکاسم اسکیم پر عنقریب عمل آوری ‘30 ہزار سرکاری جائیدادوں پر تقررات

   

200 کروڑ سے انٹیگریٹیڈ اقامتی اسکولوں کی تعمیر، پالاکرتی میں ترقیاتی اسکیمات کا آغاز، ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا کا خطاب
حیدرآباد 6 جون (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا نے اعلان کیاکہ حکومت پالمور رنگاریڈی لفٹ اریگیشن اسکیم کو مکمل کرتے ہوئے متحدہ محبوب نگر ضلع میں آبپاشی اور پینے کے پانی کے مسائل کی یکسوئی کرے گی۔ بھٹی وکرامارکا نے آج محبوب نگر کے دیورکدرہ اسمبلی حلقہ میں مختلف ترقیاتی اسکیمات کا آغاز کیا۔ وزیر سیاحت جوپلی کرشنا راؤ اور مقامی عوامی نمائندوں کے ہمراہ ڈپٹی چیف منسٹر نے مختلف پروگراموں میں شرکت کی۔ اِس موقع پر خطاب کرتے ہوئے بھٹی وکرامارکا نے سابق بی آر ایس دور حکومت میں پراجکٹس کو نظرانداز کرنے اور عوامی رقومات میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیوں کا الزام عائد کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ بی آر ایس کے دور میں فصلوں کو پانی سیراب نہیں کیا گیا اور پراجکٹس کے نام پر بھاری رقومات ہڑپ لی گئیں۔ اُنھوں نے سابق حکومت کے دور میں بڑے پیمانے پر لوٹ کا الزام عائد کیا اور کہاکہ کے سی آر خاندان کی بھلائی اور ترقی اوّلین ترجیح تھی۔ کویتا کی سرگرمیوں کا حوالہ دیتے ہوئے بھٹی وکرامارکا نے کہاکہ خود کے سی آر خاندان کے ارکان حقائق کا انکشاف کررہے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ 10 برسوں کی حکمرانی میں عوام کو کس طرح نظرانداز کیا گیا۔ کانگریس حکومت تلنگانہ کو عالمی سطح پر ترقی یافتہ ریاست کے طور پر پیش کرے گی۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے پالمور رنگاریڈی پراجکٹ کیلئے درکار فنڈس جاری کرنے کا تیقن دیا اور کہاکہ متحدہ محبوب نگر ضلع کے آبی مسائل کی مستقل یکسوئی ہوگی۔ اُنھوں نے 12 نئے برقی سب اسٹیشنوں کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا۔ بھٹی وکرامارکا نے کہاکہ فلاحی اور ترقیاتی اسکیمات کے نتیجہ میں حکومت کو عوام کی مکمل تائید حاصل ہے۔ اُنھوں نے محبوب نگر عوام کو مبارکباد دی اور کہاکہ ایسے نمائندوں کو اسمبلی کیلئے منتخب کیا جو ہمیشہ عوام کی بھلائی کی فکر کرتے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ کرشنا ندی میں تلنگانہ کے آبی حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔ بھٹی وکرامارکا کے مطابق اگر گزشتہ 10 برسوں میں پالمور رنگاریڈی پراجکٹ پر توجہ دی جاتی تو محض 3 برسوں میں مکمل کیا جاسکتا تھا۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے شادی مبارک، کلیان لکشمی، اندراماں ہاؤزنگ اور دیگر فلاحی اسکیمات کا ذکر کیا اور کہاکہ حکومت 4.5 لاکھ مکانات کی تعمیر کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ہر اسمبلی حلقہ میں 3500 مکانات الاٹ کئے جائینگے۔ 29 لاکھ زرعی پمپ سیٹس کو مفت برقی سربراہ کی جارہی ہے جس کے نتیجہ میں سرکاری خزانہ پر سالانہ 12500 کروڑ کا اضافی بوجھ ہے۔ گروہا جیوتی اسکیم کے تحت 50 لاکھ خاندانوں کو 200 یونٹ مفت برقی سربراہی سے سرکاری خزانہ پر سالانہ 200 کروڑ کا خرچ آرہا ہے۔ اُنھوں نے آر ٹی سی میں خواتین کو مفت سفر کی سہولت کے علاوہ 200 کروڑ سے انٹیگریٹیڈ اقامتی اسکول کامپلکسوں کی تعمیر کا حوالہ دیا۔ اُنھوں نے کہاکہ گزشتہ 10 برسوں میں بیروزگار نوجوانوں کو دھوکہ دیا گیا جبکہ کانگریس حکومت نے ایک سال میں 56 ہزار سرکاری جائیدادوں پر تقررات کئے اور مزید 30 ہزار جائیدادوں پر جلد تقررات کئے جائیں گے۔ اُنھوں نے کہاکہ راجیو یوا وکاسم اسکیم پر عنقریب عمل آوری ہوگی جس کے تحت 5 لاکھ نوجوانوں کو 8 ہزار کروڑ جاری کئے جائیں گے۔1