راجیو یووا وکاسم اسکیم تلنگانہ کے بیروزگار نوجوانوں کیلئے گیم چینجر

,

   

6000 کروڑ سبسیڈی کا منصوبہ، بینکرس اسکیم کی کامیابی میں تعاون کریں، بھٹی وکرامارکا کا اعلیٰ سطحی اجلاس

حیدرآباد۔/16 اپریل، ( سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ راجیویووا وکاسم اسکیم تلنگانہ کے بیروزگار نوجوانوں کیلئے گیم چینجر ثابت ہوگی۔ اسکیم سے نوجوانوں کی زندگی میں تبدیلی آئے گی اور ان کا مستقبل تابناک ہوگا۔ بھٹی وکرامارکا نے آج پرجا بھون میں راجیو یووا وکاسم اسکیم پر عمل آوری کے سلسلہ میں بینکرس کے ساتھ اجلاس منعقد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ضلع کلکٹرس کو بینکرس کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے نوجوانوں کو قرض کی اجرائی کو یقینی بنانا چاہیئے۔ بھٹی وکرامارکا نے بینکرس سے خواہش کی کہ وہ اسکیم کے تحت منتخب کئے گئے امیدواروں کو قرض جاری کریں۔ حکومت سبسیڈی کے طور پر زائد رقم منظور کررہی ہے اور بینکوں کو چاہیئے کہ وہ باقی رقم بطور قرض جاری کریں۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ ملک میں پہلی مرتبہ کسی ریاستی حکومت نے بیروزگار نوجوانوں کیلئے اس طرح کی منفرد اسکیم تیار کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بینکرس کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اسکیم کے استفادہ کنندگان کی مدد کرنی چاہیئے۔ متحدہ آندھرا پردیش کی تاریخ میں خود روزگار اسکیم کے تحت پہلی مرتبہ منفرد اسکیم تیار کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایک طرف سرکاری جائیدادوں پر تقررات کرتے ہوئے بیروزگار نوجوانوں سے انصاف کررہی ہے تو دوسری طرف خود روزگار اسکیم کے تحت معاشی طور پر خود مکتفی بنایا جارہا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے بتایا کہ اسکیم کے تحت حکومت 6000 کروڑ منظور کرے گی جبکہ بینکرس کو 1600 کروڑ قرض جاری کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکیم میں بہتر حصہ داری کے ذریعہ بینکوں کی نیک نامی میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عہدیداروں کو اسکیم کے بارے میں 15 دن تک ٹریننگ دی گئی ہے تاکہ امیدواروں کے انتخاب میں شفافیت رہے۔ بھٹی وکرامارکا نے بینکرس سے اپیل کی کہ وہ اسکیم کی کامیابی میں اہم رول ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ استفادہ کنندگان کو منظوری سے متعلق مکتوب حوالے کرنے کے بعد اسٹیٹ لیول بینکرس کمیٹی کا اجلاس طلب کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے سبسیڈی کی اجرائی کے بعد بینکوں کو قرض کی رقم جاری کرنی ہوگی۔ اجلاس میں اسپیشل چیف سکریٹری فینانس سندیپ کمار سلطانیہ، اسپیشل سکریٹری ایس سی ڈیولپمنٹ سریدھر، سکریٹری ایس ٹی ڈیولپمنٹ شرت، سکریٹری بہبودی پسماندہ طبقات سریدھر اور دیگر عہدیداروں نے شرکت کی۔1