راجیو یووا وکاسم کے تحت 5 لاکھ نوجوانوں کو 8 ہزار کروڑ سبسیڈی قرض کی فراہمی

   

حکومت کمزور طبقات اور اقلیت کی ترقی میں سنجیدہ ، 100 سے زائد اقامتی اسکولس کی منظوری، ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا کا خطاب
حیدرآباد ۔ 28۔ مئی (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا نے چیف منسٹر ریونت ریڈی کو موافق ایس سی ، ایس ٹی طبقات قرار دیا اور کہا کہ ریونت ریڈی ایک ہمدرد اور صاف گو انسان ہیں جو کمزور طبقات کی ترقی اور بھلائی کے بارے میں سنجیدہ ہیں۔ بھٹی وکرمارکا ایس سی اقامتی اسکولوں کے طلبہ کو ایوارڈ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایس سی سب پلان کے تحت درج فہرست اقوام کی بھلائی پر بھاری رقومات خرچ کی ہیں۔ سابق بی آر ایس حکومت نے ایس سی طبقات کی ترقی کو فراموش کردیا تھا ۔ بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی ہمدردی کا جذبہ رکھتے ہیں اور ہمیشہ عوام کی بھلائی کی فکر کرتے ہیں۔ وہ حقیقی معنوں میں اپنے وعدوں کی تکمیل میں یقین رکھتے ہیں ۔ انہوں نے ووٹ حاصل کرنے کیلئے وعدے نہیں کئے بلکہ ان پر عمل کر کے دکھایا۔ بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی اور اقلیتی طلبہ کیلئے 104 اقامتی اسکولس انٹیگریٹیڈ کامپلکس تعمیر کئے جارہے ہیں جہاں کارپوریٹ طرز کی سہولتیں رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے طلبہ کے ڈائیٹ اور کاسمیٹکس چارجس میں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماجی انصاف اور عوام کی عزت نفس کے تحفظ کیلئے کانگریس حکومت کام کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی ، ایس ٹی سب پلان پر سنجیدگی سے عمل کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی ، اقلیت اور معاشی طور پر کمزور طبقات کے طلبہ ریاست کا مستقبل ہیں اور حکومت ان کی ترقی کیلئے درکار فنڈس خرچ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ آندھراپردیش اور بی آر ایس کے 10 سالہ حکومت میں ایس سی ، ایس ٹی سب پلان پر عمل نہیں کیا گیا ۔ کانگریس نے متحدہ آندھراپردیش میں ڈپٹی اسپیکر اور علحدہ تلنگانہ میں 10 سال تک مجھے سی ایل پی لیڈر کے طور پر خدمت کا موقع دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی سب پلان کے تحت 40232 مختص کئے گئے اور سابق حکومت کے 13223 کروڑ کو بھی بجٹ میں شامل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت غریبوں کی اراضیات کو واپس دلانے کے لئے بھو بھارتی قانون پر عمل کر رہی ہے۔ ایک سال میں 100 سے زائد ینگ انڈیا اقامتی اسکولس منظور کئے گئے، ہر اسکول کی تعمیر پر 25 کروڑ کا خرچ آئے گا ۔ حکومت نے اسکولوں کی ذاتی عمارتوں کو یقینی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ سابق میں رائس ملز اور فنکشن ہالس میں اسکولس چلائے جاتے رہے۔ سابق بی آر ایس حکومت نے نوجوانوں کو روزگار سے محروم کرتے ہوئے انجنیئرنگ گریجویٹس کو معمولی کام انجام دینے پر مجبور کردیا تھا ۔ راجیو یووا وکاسم اسکیم کا 2 جون سے آغاز ہوگا جس کے تحت 5 لاکھ بیروزگار نوجوانوں کو 8000 کروڑ کے قرض فراہم کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی اور اقلیت کی جامع ترقی کے عہد کی پابند ہے۔ حکومت نے سرکاری ہاسٹلس میں ڈائیٹ چارجس میں 40 فیصد اور کاسمیٹکس چارجس میں 200 فیصد کا اضافہ کیا۔ سماجی انصاف کی تکمیل کیلئے طبقاتی سروے منعقد کیا گیا ۔1