راشن شاپس کے چاول کی بلیک میں فروخت پر سخت کارروائی: اتم کمار ریڈی

   

ریاستی وزیر نے راشن شاپس کا معائنہ کیا، ڈیلرس اور رائس ملرس پر حکومت کی کڑی نظر
حیدرآباد ۔25۔ڈسمبر (سیاست نیوز) وزیر آبپاشی و سیول سپلائیز این اتم کمار ریڈی نے راشن شاپس کے ذریعہ غریبوں کو سربراہ کئے جانے والے چاول کے بے جا استعمال اور بلیک میں فروخت کے خلاف رائس ملرس اور دوسروں کو سخت کارروائی کا انتباہ دیا ہے ۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ جو ڈیلر بھی عوامی نظام تقسیم کے چاول کو ملرس کے حوالے کرے گا ، اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ اتم کمار ریڈی نے آج حضور نگر میں مختلف راشن شاپس کا اچانک دورہ کرتے ہوئے سربراہ کئے جانے والے چاول کے معیار کا معائنہ کیا۔ انہوں نے مقامی افراد سے بات چیت کرتے ہوئے راشن ڈیلر کی کارکردگی کے بارے میں تفصیلات حاصل کی۔ انہوں نے راشن کے چاول کی ری سائیکلنگ کے ذریعہ مارکٹ میں زائد قیمت پر فروخت کی اطلاعات پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ سیول سپلائیز کے عہدیدار راشن شاپس پر کڑی نظر رکھیں گے ۔ ریاستی وزیر نے بتایا کہ تلنگانہ میں تقریباً 54 لاکھ راشن کارڈ ہولڈرس کو مرکزی حکومت کی جانب سے فی کس 5 کیلو اور ریاستی حکومت کی جانب سے اضافی طور پر ایک کیلو چاول سربراہ کیا جارہا ہے ۔ حکومت نے مزید 35 لاکھ راشن کارڈس ہولڈرس کو ہر ماہ 6 کیلو چاول سربراہی کا سلسلہ جاری رکھا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکز اور ریاست کی جانب سے فی کیلو چاول پر 39 روپئے خرچ کئے جارہے ہیں۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ 70 تا 75 فیصد راشن شاپ کا چاول ملرس کی جانب سے ری سائیکل کرتے ہوئے زائد قیمت پر مارکٹ میں فروخت کیا جارہا ہے۔ حکومت ان سرگرمیوں کا سنجیدگی سے نوٹ لے گی اور جو بھی اس معاملہ میں ملوث پائے جائیں ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ کانگریس حکومت غریبوں کو معیاری چاول کی سربراہی میں سنجیدہ ہے۔ راشن شاپ ڈیلرس اور ملرس کے درمیان ملی بھگت کو ختم کرنے کیلئے حکومت سخت قدم اٹھائے گی۔ وزیر سیول سپلائیز نے بتایا کہ سابق بی آر ایس حکومت نے سیول سپلائیز کارپوریشن کو 56,000 کروڑ کا مقروض بنادیا ہے۔ 2014 ء میں کارپوریشن کا قرض 3300 کروڑ تھا۔ انہوں نے کہا کہ دھان کی خریدی اور چاول کی سربراہی کے نتیجہ میں 3000 کروڑ کا اضافی بوجھ عائد ہوا ہے ۔ گزشتہ 10 برسوں میں کارپوریشن کو 11000 کروڑ کا اضافی نقصان ہوا ہے ۔ اتم کمار ریڈی نے سابق حکومت کی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ 22000 کروڑ مالیتی دھان رائس ملرس کے حوالے کردیا گیا۔ کرناٹک اور ٹاملناڈو نے تلنگانہ سے چاول کی خریدی کا پیشکش کیا تھا لیکن سابق حکومت نے فروخت سے انکار کرتے ہوئے کارپوریشن کے خسارہ میں اضافہ کیا ہے۔ ریاستی وزیر نے کہا کہ کانگریس حکومت شفافیت کے ساتھ کرناٹک اور ٹاملناڈو کو دھان کی فروخت پر غور کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سیول سپلائیز کارپوریشن کی آڈٹ 2018-19 تک مکمل ہوئی ہے۔ باقی ایام کی آڈٹ کو جلد مکمل کیا جائے گا۔ ر