کروڑ ہا روپئے کے غبن میں کئی لوگوں کے نام اور انکشافات کا امکان
نئی دہلی ۔23؍جون ( ایجنسیز)ایودھیاکی رام مندر میں عطیات کی رقم میں غبن نے مرکز اور ریاستی حکومت پر سوال کھڑے کر رہا ہے۔ ریاستی حکومت نے جانچ کیلئے خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) کوذمہ داری سونپی تھی۔ جانچ ایجنسی نے 23 جون کو اپنی ابتدائی جانچ رپورٹ یوپی حکومت کو سونپ دی ہے۔اطلاعات کے مطابق 3 رکنی خصوصی تفتیشی ٹیم نے اپنی رپورٹ ایڈیشنل چیف سکریٹری (داخلہ) سنجے پرساد کو سونپ دی ہے۔ اس رپورٹ میں گزشتہ دنوں کی گئی تفتیش کی مکمل تفصیلات ہیں۔ مانا جا رہا ہے کہ اب کئی لوگوں کے نام سامنے آ سکتے ہیں اور کئی بڑے انکشاف ہو سکتے ہیں۔ یہ ابتدائی رپوٹ ہے اور اس کی تفصیلات خفیہ رکھی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال ہم کچھ بھی نہیں بتا سکتے ہیں، ہم نے اپنی جانچ کے نتائج انہیں بتا دیئے ہیں۔دوسری طرف حکومت کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ جانچ کی کارروائی ابھی جاری ہے یعنی یہ حتمی رپورٹ نہیں ہے اور اس معاملے کی جانچ ابھی آگے بھی چلتی رہے گی۔ایس آئی ٹی نے مبینہ200کروڑ روپئے کے غبن کے سلسلہ میں گزشتہ دنوں مختلف پہلوؤں کی جانچ، لوگوں سے پوچھ تاچھ اور دستاویزات کی تفتیش کی تھی۔ ذرائع کے مطابق تقریباً 150 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں تقریباً 150 لوگوں سے کی گئی پوچھ تاچھ کی تفصیلات شامل ہیں۔ ایس آئی ٹی نے ایف آئی آر درج کرنے اور مندر ٹرسٹ کی تشکیل نو کی سفارش کی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ ایس آئی ٹی نے گزشتہ 5 سالوں میں مندر کو حاصل سبھی عطیات کا آڈٹ کرنے کی سفارش کی ہے۔رپورٹ کے سفارشات پر حتمی فیصلہ اتر پردیش کے چیف منسٹر یوپی کریں گے۔