اب تک کی تحقیقات پر سپریم کورٹ نے اطمینان کا اظہار کیا ۔ 25 ستمبر تک چارج شیٹ پیش کردینے اُترپردیش حکومت کا تیقن
نئی دہلی 21 ستمبر ( ایجنسیز ) رام مندر کے عطیات اور چندہ چوری کے معاملہ میں تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل دی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے یہ تجزیہ کیا ہے کہ مندر میں تقریبا 105 مرتبہ چوری ہوئی ہے ۔ یہ رائے سی سی ٹی وی فوٹیج کے مشاہدہ ‘ عینی شاہدین کے بیانات اور عطیات کے ریکارڈز کی جانچ کے بعد قائم کی گئی ہے ۔ ان تفصیلات سے واقفیت رکھنے والے افراد نے یہ بات بتائی ۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس آئی ٹی کی جانب سے سپریم کورٹ میں تحقیقات کے موقف کے تعلق سے جو رپورٹ پیش کی گئی ہے اس میں اس بات کو بھی شامل رکھا گیا ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عبوری رپورٹ میں چندہ چوری کے جن واقعات کا تذکرہ کیا گیا تھا اس میں مزید 70 مرتبہ کا اضافہ درج کیا گیا ہے ۔ مسٹر وجئے وشواس پنت کی قیادت والی ایس آئی ٹی نے یہ رپورٹ تیار کی ہے ۔ پہلی ایس آئی ٹی اس معاملہ کی تحقیقات کیلئے حکومت اترپردیش کی جانب سے 13 جون کو تشکیل دی گئی تھی ۔ سپریم کورٹ کی ہدایات کے بعد 26 جولائی کو دوسری ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی تھی جس میں لکھنو زون کے انسپکٹر جنرل پولیس کرن ایس ‘ ایودھیا رینج کے ڈی آئی جی سومن برما ‘ ایودھیا کے ایس ایس پی گورو گرور اور بارہ بنکی کے اڈیشنل ایس پی رتیش کمار سنگھ شامل ہیں ۔ کہا جا رہا ہے کہ تحقیق کنندگان نے سینکڑوں گھنٹوں کے نگرانی ویڈیوز کا معائنہ کیا ہے ۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل لاگنگ رسائد اور بینک ڈپازٹ ریکارڈز کا بھی جائزہ لیا گیا ہے تاکہ اس بات کا مکمل پتہ چلایا جاسکے کہ کس طرح سے عطیات کی چوری کی گئی تھی اور بینک لاکرس کو منتقل کیا گیا تھا ۔ رپورٹ میں عوام کی جانب سے عطیہ کئے جانے والی قیمتی اشیاء سے نمٹنے کے طریقہ کار کا بھی جائزہ لیا گیا ہے ۔ عدالت کو اس کی تفصیلات سے واقف کروایا گیا ہے ۔ سپریم کورٹ میں آج اس مسئلہ کی سماعت مقرر تھی اور چیف جسٹس سوریہ کانت ‘ جسٹس جوئے مالا بھاغچی اور جسٹس وہ موہنا پر مشتمل بنچ نے اب تک کی تحقیقات پر طمانیت کا اظہار کیا ہے ۔ سپریم کورٹ نے تاہم اس مرحلہ پر درخواست گذاروں کو اسٹیٹس رپورٹ فراہم کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ عدالت نہیں چاہتی کہ اس مسئلہ کو سشن جج کے دائرہ اختیار سے باہر لیجایا جائے ۔ اگر مزید تحقیقات کی ضرورت ہوگی تب ہی مزید احکام جاری کئے جائیں گے ۔ حکومت اترپردیش نے بنچ کو تیقن دیا کہ عدالت میں اس سلسلہ میں 25 ستمبر تک چارج شیٹ پیش کردی جائے گی ۔ اس تاریخ کی اہمیت ہے کیونکہ اس دن اس کیس میں پہلی گرفتاری کے 90 دن پورے ہو رہے ہیں۔ یہ تنازعہ اس وقت منظر عام پر آیا تھا جب 7 جون کو سماجوادی پارٹی لیڈر تیج نارائن پون پانڈے نے الزام عائد کیا تھا کہ رام مندر سے 5 تا 7.5 کروڑ روپئے کے عطیات کی چوری ہوگئی ہے ۔ اس کیس میں جملہ آٹھ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ۔