رام مندر کے چندہ نہ دینے پر مجھے دھمکایاگیا۔ کمارا سوامی

,

   

بنگلورو۔ سابق چیف منسٹر کرناٹک ایچ ڈی کمارا سوامی نے چہارشنبہ کے روز مبینہ طور پر کہاکہ ”تین لوگ بشمول ایک عورت‘‘ نے انہیں اسوقت دھمکیاں دیں جب وہ لوگ ایودھیا میں مجوزہ رام مندر کی تعمیر کے لئے چند ہ مانگنے کے لئے ائے تھے۔

کمارا سوامی نے رپورٹرس کو بتایاکہ تین لوگ بشمول ایک عورت نے مجھے دھمکیاں دیں وہ کون ہیں میں جانتا بھی نہیں ہوں۔انہوں نے کہاکہ ”اگر میں سابق چیف منسٹر ہوتے ہوئے دھمکایاجارہاہوں‘ تو تصور کریں ریاست میں کس طرح چند اکٹھا کرنے کی مہم چلائی جارہی ہے“۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے بات کو وسعت دئے بغیر کہاکہ اپنی زندگی میں انہیں میں نے پہلی مرتبہ دیکھا ہے۔

انہوں نے فوری مزیدکہاکہ ایودھیامیں رام مندر کی تعمیر کے وہ خلاف نہیں ہیں مگر جس انداز میں خانگی لوگ چندہ اکٹھا کررہے ہیں اس پر اعتراض ضرور ہے۔مبینہ طور پر کمارا سوامی نے کہاکہ ”کس نے انہیں اجازت دی ہے؟ وہ لوگ عوام کو دھمکارہے ہیں۔ یہاں تک مجھے شکار بنایاگیاہے۔

تین لوگ میرے گھر ائے جس میں ایک عورت بھی شامل ہے اور انہوں نے مجھے دھمکاتے ہوئے پوچھا کے مندر کے لئے کیوں پیسے نہیں دے رہے ہیں“۔

قبل ازیں دن میں انہوں نے ٹوئٹر کے ذریعہ اپنے مخالفین جس میں ایک پجاری بھی شامل ہے جس نے ان پر لگائے گئے الزامات پر اعتراض جتایاہے۔

کنڈا زبان میں کئے گئے اپنے سلسلہ وار ٹوئٹس میں انہوں نے کہاکہ اپنے مخالفین کی جانب سے انہیں کسی سند کی ضرورت نہیں ہے جس میں مجھے چوہا یاجھوٹا ہندوستان قراردیاجارہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ”میری فیملی بھگوان بشمول رام کی پوجا کرتی ہے‘ مگر کبھی بھی مذہبی خطوط پر لوگوں کو تقسیم کرنے میں ملوث نہیں رہی ہے۔ مگر کچھ جھوٹے ہندو او رچوہے ایسا کررہے ہیں“۔

انہوں نے اس بات کو تسلیم کرنے میں انہیں کوئی شرمندگی نہیں ہے کہ وہ دوبارہ چیف منسٹر اور ان کے والد(ایچ ڈی دیوی گوڑا) چیف منسٹراو روزیراعظم صرف بھگوان اور لوگوں کی مدد سے بنے ہیں۔اپنے ٹوئٹس کے دسویں حصہ میں انہوں نے کہاکہ ”لہذا ہمارے ہندو بھگوانوں‘ منادر اور روایتوں پر کسی کے سوال او رشبہ نہیں چاہتاہوں“۔

انہوں نے مزیدکہاکہ ایک پجاری نے میری سنجیدگی پر تبصرہ کیاہے”میں ان سے کہنا چاہوں گا وہ لوگوں کو فرقہ وارانہ سیاست میں ملوث کرنے کے بجائے اپنے راستے پر عمل کرتے ہوئے لوگوں کو متحدہ کرنے کاکام کریں“۔

سابق چیف منسٹر نے مزیدکہاکہ وہ ملک کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد کرنے والی کسی مندر یا ڈھانچہ کی تعمیر کے لئے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ”میں رام مندر کے لئے ہوں‘ جو لوگوں میں اتحاد فراہم کرتا ہے“۔

دو دن قبل پیر کے روز کمارا سوامی نے ان الزامات کی بوچھا ر لگائی کہ آر ایس ایس ان لوگوں کے گھروں پرنشانات لگارہی ہے جو ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لئے چند ہ نہیں دے رہے ہیں اورالزام لگایاکہ جرمنی میں نازیوں نے بھی اسی طرح کاکام کیاتھا۔

ان الزامات پر ردعمل پیش کرتے ہوئے کرناٹک میں وی ایچ پی نے اپنے ایک بیان میں منگل کے روزسابق چیف منسٹر کی جانب سے انتہائی غیر ذمہ دارانہ ٹوئٹس ان دنوں سامنے آرہے ہیں۔

بیان میں مزیدکہاگیاہے کہ ”وی ایچ پی ان بے بنیاد الزامات پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔

حب الوطن تنظیم آر ایس ایس پر کمارا سوامی کے بیان کے غیر ذمہ داران تبصرے کی بھی وی ایچ پی سخت مذمت کرتی ہے۔

سابق چیف منسٹر کے بیان پر آر ایس ایس نے بھی اپنی ناراضگی کا اظہار کیاہے“