18 سالہ طالب علم کا حوالہ، ملک میں تین طرح کے لوگ : طالب علم ، غیرپارلیمانی لفظ اور اندھ بھکت
نئی دہلی، 29 جولائی (یو این آئی) لوک سبھا میں چہارشنبہ کو پبلک ایگزامینیشنز (پریوینشن آف ان فیئر مینز) ترمیمی بل 2026 پر بحث کے دوران حزب اختلاف کے لیڈر راہول گاندھی کی تقریر میں مبینہ غیرپارلیمانی الفاظ کے استعمال پر برسراقتدار جماعت اور اپوزیشن کے درمیان شدید نوک جھونک ہوئی، جس کی وجہ سے ایوان میں زبردست ہنگامہ ہوا اور لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو ایوان کی کارروائی دوپہر 2:30 بجے تک کیلئے ملتوی کرنی پڑی۔راہول گاندھی نے پیپر لیک کے معاملے پر بحث کے دوران کہا کہ حال ہی میں ان کی ایک 18 سالہ طالب علم سے بات چیت ہوئی تھی۔ اس طالب علم کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کے مطابق ملک میں تین طرح کے لوگ ہیں، ایک طالب علم، ایک غیر پارلیمانی لفظ اور ان لوگوں کی پیروی کرنے والے اندھ بھکت۔ راہول گاندھی کی طرف سے اس دوران ایک غیر پارلیمانی لفظ کا استعمال کرنے پر پارلیمانی امور کے وزیر کیرن رجیجو نے اعتراض ظاہر کرتے ہوئے مداخلت کی اور کہا کہ حزب اختلاف کے لیڈر یا ایوان کا کوئی بھی رکن ایوان میں اس قسم کے کسی بھی غیر پارلیمانی لفظ کا استعمال نہیں کر سکتا۔ انہوں نے اسپیکر سے اس کا نوٹس لینے اور مذکورہ لفظ کو کارروائی سے حذف کرنے کا مطالبہ کیا۔اس کے تعلق سے برسراقتدار جماعت اور اپوزیشن کے ارکان کے درمیان شدید نوک جھونک شروع ہو گئی۔ ہنگامہ دونوں طرف سے شروع ہو گیا۔ دونوں اطراف کے ارکان اپنی اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر بولنے لگے ، جس سے ایوان میں شور شرابے اور ہنگامے کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ رجیجو نے کہا کہ راہول گاندھی کو غیر پارلیمانی الفاظ کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ گاندھی بچے کا نام نہیں لے رہے ہیں لیکن جس لفظ کا استعمال انہوں نے کیا ہے اس کو ہٹا دینا چاہیے ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ غلط لفظ ہے اور قاعدے کے مطابق اس لفظ کا استعمال نہیں ہو سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ رول بک میں بھی اس لفظ کا استعمال غیر پارلیمانی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ غیر پارلیمانی لفظ انہوں نے نہیں بنایا ہے بلکہ یہ رول بک میں ہے ، اس کے باوجود گاندھی مسلسل غلط لفظ بول رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ”میں بار بار آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ آپ اس لفظ کا استعمال مت کیجیے ، ہم آپ کو سننے کیلئے بیٹھے ہیں۔ ہمارے ارکان غیر پارلیمانی لفظ کے استعمال کی وجہ سے غصے میں آئے ہیں، اس لیے میں حزب اختلاف سے کے لیڈر سے التماس کرتا ہوں کہ وہ غیر پارلیمانی الفاظ کا استعمال نہ کریں۔”ہنگامہ دونوں طرف سے بڑھنے لگا تو اسپیکر اوم برلا نے گاندھی سے کہا کہ وہ حزب اختلاف کے لیڈر ہیں اور اس عہدہ کا ایک وقار ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گاندھی کو وقار کا خیال رکھتے ہوئے پارلیمانی الفاظ کا استعمال کرنا چاہیے اور غیر پارلیمانی الفاظ کا استعمال نہیں کرنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ غیر پارلیمانی لفظ کو ایوان کے عمل سے حذف کر دیں گے ۔ برلا نے کہا کہ حزب اختلاف کے لیڈر کو صرف بل پر بولنا چاہیے ۔ دونوں طرف سے جب مسلسل شدید نوک جھونک ہونے لگی تو ہنگامہ بھی تیز ہونے لگا۔ انہوں نے گاندھی سے غلط الفاظ کا استعمال نہ کرنے کی درخواست کی لیکن دونوں اطراف کے ارکان ہنگامہ کرتے رہے جس کی وجہ سے برلا کو ایوان کی کارروائی دوپہر 2:30 بجے تک کیلئے ملتوی کرنی پڑی۔