بی جے پی آفس کے روبرو مہیلا کانگریس کا احتجاج، گاندھی بھون پر بی جے پی قائدین کے علامتی پتلے نذرِ آتش، نارائن گوڑہ چوراہے پر دھرنا
حیدرآباد۔/18 ستمبر، ( سیاست نیوز) کانگریس قائد اور لوک سبھا میں قائد اپوزیشن راہول گاندھی کے خلاف بی جے پی اور شیو سینا قائدین کے اشتعال انگیز اور اہانت آمیز بیانات کے خلاف آج ریاست بھر میں کانگریس پارٹی کی جانب سے احتجاج منظم کیا گیا۔ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر مہیش کمار گوڑ کی اپیل پر حیدرآباد اور اضلاع میں بی جے پی قائدین کے علامتی پتلے نذرِ آتش کئے گئے اور جگہ جگہ احتجاجی مظاہروں کے ذریعہ راہول گاندھی کے خلاف بیانات کی مذمت کی گئی۔ پردیش کانگریس کمیٹی کے ہیڈکوارٹر گاندھی بھون کے روبرو پارٹی کے سینئر قائدین ڈی ناگیندر رکن اسمبلی، سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ، صدر ضلع کانگریس کمیٹی روہن ریڈی، فشریز کارپوریشن کے صدرنشین ایم سائی کمار اور دوسروں کی قیادت میں دھرنا منظم کیا گیا۔ راہول گاندھی کے خلاف بی جے پی قائدین کی بیان بازی پر وزیر اعظم نریندر مودی اور دیگر قائدین کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ گاندھی بھون کے روبرو بی جے پی قائدین کے علامتی پتلے نذرِ آتش کئے گئے۔ مہیلا کانگریس کی جانب سے بی جے پی کے ریاستی دفتر کے روبرو احتجاج منظم کیا گیا جس میں مہیلا کانگریس کارکنوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ صدر ریاستی مہیلا کانگریس سنیتا راؤ کی قیادت میں کارکنوں نے بی جے پی آفس میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کرتے ہوئے ناکام بنادیا۔ پولیس نے احتجاج کرنے والی مہیلا کانگریس قائدین کو احتیاطی طور پر حراست میں لے لیا اور بیگم بازار پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا۔ کانگریس کے رکن کونسل بی وینکٹ کی قیادت میں نارائن گوڑہ چوراہے پر دھرنا منظم کیا گیا۔ بی وینکٹ اور دیگر قائدین نے اس موقع پر بی جے پی قائدین کے علامتی پتلے نذرِ آتش کئے۔ حیدرآباد کے علاوہ تقریباً تمام اضلاع میں راہول گاندھی کی حمایت میں کانگریس کے مظاہروں کی اطلاعات ملی ہیں۔ نلگنڈہ، کھمم ، محبوب نگر، ورنگل، نظام آباد، عادل آباد اور دیگر اضلاع میں کانگریس کی جانب سے احتجاج منظم کیا گیا۔ کانگریس قائدین نے وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا کہ راہول گاندھی کے خلاف بیان بازی کرنے والے قائدین کو پارٹی سے برطرف کریں۔ رنگاریڈی ضلع کانگریس کی جانب سے میر پیٹ چوراہے پر احتجاج منظم کیا گیا۔ صدر ضلع کانگریس کمیٹی چلا نرسمہا ریڈی نے راہول گاندھی کے خلاف اہانت آمیز بیانات کی مذمت کی اور بی جے پی قائدین کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی گئی۔ احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے ڈی ناگیندر اور ہنمنت راؤ نے کہا کہ بی جے پی قائدین سنجے گائیکواڈ اور انیل بونڈے نے راہول گاندھی کو بالواسطہ طور پر قتل کرنے کی دھمکی دی ہے۔ بی جے پی قائد نے یہاں تک کہا کہ راہول گاندھی کا حشر ان کی دادی کی طرح ہوگا۔ کانگریس قائدین نے کہا کہ گاندھی خاندان ملک کیلئے قربانیوں کی تاریخ رکھتا ہے۔ بی جے پی کے ایک لیڈر نے راہول گاندھی کی زبان کاٹنے پر 11 لاکھ روپئے انعام کا اعلان کیا ہے۔ کانگریس قائدین نے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کی خاموشی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ملک میں نفرت اور تشدد کے ماحول کو ہوا دی جارہی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ پارٹی قائدین کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ بی جے پی قائدین کو راہول گاندھی سے معذرت خواہی کرنی چاہیئے۔ مہیلا کانگریس کی صدر سنیتا راؤ نے کہا کہ راہول گاندھی کے خلاف بیان بازی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں صورتحال بگاڑنے کی سازش کے تحت بی جے پی قائدین بیان بازی کررہے ہیں۔1