رسول اکرمؐ کی شان میں گستاخی پرکانپور میں مسلمانوں کا احتجاج، نماز ِ جمعہ کے بعد جھڑپیں

,

   

کانپور: اترپردیش کے شہر کانپور میں آج سینکڑوں افراد جھڑپوں میں ملوث ہوئے جبکہ ایک مسلم تنظیم نے بند کی اپیل کی تھی۔ جھڑپوں کا مقام پریڈ مارکٹ رہا جہاں کئی دکانات بند کئے گئے۔ یہ شہر میں ہول سیل مارکٹ کا سب سے بڑا مقام ہے۔ آج نماز جمعہ کے بعد احتجاج کا پس منظر بی جے پی لیڈر نپور شرما کے گستاخانہ ریمارکس ہیں جو اس نے ٹیلی ویژن مباحثہ میں پیغمبر محمدؐ کے تعلق سے کئے ہیں۔ پریڈ چوک میں دو برادریوں کے گروپ متصادم ہوئے۔ انہوں نے ایک دوسرے پر پتھرائو کیا اور بعض جگہوں پر پولیس کو بھی نشانہ بنایا۔ زائد از ایک درجن افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ سنگ باری میں دو افراد زخمی ہوئے۔ اقلیتی برادری کے ارکان نماز جمعہ کے بعد مارکٹ بند کرانے کے لیے گھومتے دیکھے گئے۔ پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور انہیں منتشر کردینے کی کوشش کی۔ پولیس کو ریاٹ گیئر میں تعینات دیکھا گیا جو علاقہ میں معمول کی صورتحال بحال کرنے کے لیے کوشاں نظر آئے۔ متاثرہ علاقہ میں لا اینڈ آرڈر کو بحال کرنے کے لیے پولیس فورس کی تین کمپنیاں متعین کردی گئی ہیں۔ بی جے پی لیڈر نپور کے خلاف مہاراشٹرا میں دو مقدمات تھانے اور جنوبی ممبئی میں درج کئے گئے ہیں۔ یہ کارروائی ٹی وی مباحثہ کے دوران مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کی پاداش میں ہوئی ہے۔ بی جے پی لیڈر پر تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت الزامات عائد کئے گئے ہیں جن میں مختلف برادریوں کے درمیان دشمنی پیدا کرنا، مذہبی احساسات کو مجروح کرنا اور کسی شخص کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے ارادے سے غلط الفاظ استعمال کرنا شامل ہیں۔ جاریہ گیان واپی مسجد تنازعہ کے بارے میں مباحثے کے دوران بی جے پی لیڈر نے کہا تھا کہ مسلمانوں کی مذہبی کتابوں کی بعض باتیں لوگوں کے لیے مضحکہ خیز ہیں۔ نپور کو اس بات پر اعتراض ہے کہ ہندو عقیدے کا مذاق اڑاتے ہوئے شیولنگ کی ہتک کی جارہی ہے۔ گیان واپی مسجد کے وضو خانہ میں مبینہ طور پر شیو لنگ پایا گیا ہے۔ مسلم برادری اسے فائونٹین یا فوارہ کہتی ہے جو عقلی طور پر بھی درست معلوم ہوتا ہے کیوں کہ اس میں فوارے کے چھوٹے چھوٹے سوراخ موجود ہیں۔ نپور کے ریمارکس پر سوشل میڈیا میں کافی ہنگامہ پیدا ہوا۔ بی جے پی لیڈر نے اسکرین شارٹس ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ اسے ریپ کی دھمکیاں مل رہی ہیں اور اس کی فیملی کو ہلاک کرنے کی دھمکی بھی دی جارہی ہے۔ اس نے دہلی پولیس کو اپنے ٹویٹس پر توجہ دلائی۔ بعدازاں سلسلہ وار ٹویٹس کے ذریعہ نپور شرما نے آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر کو مورد الزام ٹھہرایا کہ وہی اس کے خلاف نفرت کو بڑھاوا دے رہا ہے۔