رمضان کے دوران رائے دہی معاملے کو الیکشن کمیشن نے کیا مسترد

,

   

الیکشن کمیشن نے کہاکہ رمضان کے پورے مہینے الیکشن کو منسوخ کرنا ممکن نہیں ہے‘ اور زیر بحث عید کے ایام اور جمعہ کے ایام پر رائے دہی پر روک

نئی دہلی۔مجوزہ لوک سبھا الیکشن برائے 2019کے متعلق اتوار کے روز الیکشن کمیشن کی جانب سے اعلان کے بعد عام آدمی پارٹی رکن اسمبلی امانت اللہ خان اور ترنمول کانگریس لیڈر فیر ہاد حکیم نے مبینہ طور پر کہاتھا کہ مسلمانوں کے مقدس ماہ صیام کے ساتھ الیکشن کرانے کی وجہہ سے مسلمانوں کو مشکلات کا سامنا ہوگا۔

خان نے کہاکہ مجوزہ شیڈول کا اثر مسلم رائے دہی میں کمی سے ہوگا‘ وہیں حکیم نے کہاکہ روزہ کے دوران لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔خان نے اتوار کے روز کہاتھا کہ ’’ یہاں پر مسلم کی کم رائے دہی ہوگی اور اس کا راست فائدہ بی جے پی کو ہوگا‘‘ ۔ اس بیان پر بی جے پی کا تنقیدی ردعمل بھی سامنے آیا۔ یونین منسٹر وجئے گوئل نے اے اے پی پر جوابی وار کرتے ہوئے کہاکہ ’’ وہ غیر ضروری انتخابی عمل کو فرقہ وارانہ رنگ دے رہے ہیں۔

ان کی الجھن اس سے ظاہر ہورہی ہے‘ انہیں نریندرمودی کے خلاف لوگوں کی حمایت حاصل نہیں ہورہی ہے۔رمضان صرف ایک بہانا ہے دراصل وہ سیاسی فائدہ کے لئے الیکشن کے عمل کو فرقہ وارانہ رنگ دینا چاہتے ہیں‘‘۔

تنازعات کے پیش نظر الیکشن کمیشن نے کہاکہ رمضان کے پورے مہینے الیکشن کو منسوخ کرنا ممکن نہیں ہے‘ اور زیر بحث عید کے ایام اور جمعہ کے دنوں کو کیا مسترد کیا۔نیوز ایجنسی نے الیکشن کمیشن کے ایک ترجمان کے حوالے سے خبر شائع کی کہ’’رمضان کے دوران پورا ماہ الیکشن کرائے جائیں گے۔

تاہم عید اور جمعہ کے ایام کے دوران رائے دہی نہیں کرائی جائے گی‘‘۔مذکورہ سات مراحل کے لوک سبھا الیکشن کی شروعات11اپریل ہے اوراختتام 19مئی کو ہوگا۔جبکہ ووٹوں کی گنتی 23مئی سے ہوگی۔ جہاں تک رمضان کی بات ہے تو ممکن ہے کہ مئی سے رمضان شروع ہوجائے گا۔

اے این ائی نے مرکزی وزیر روی شنکر پرساد کے حوالے سے خبر دی ہے کہ’’ وہ لوگ جو رمضان میں روزہ رکھتے ہیں انہیں انتخابات کی تاریخ سے کوئی مسئلہ نہیں ہے مگر کچھ سیاسی قائدین اس پر اعتراض کررہے ہیں‘‘۔

تاملناڈو میں کئی ایسی سیاسی جماعتیں ہیں جو چترائی تہوار کے پیش نظر مدروائی میں انتخابات منسوخ کرنے کی مانگ کررہے ہیں ‘ ہزاروں عقیدت مند اس میں تہوار میں حصہ لیتے ہیں۔اس ضمن میں ریاستی چیف الیکشن کمشنرتاملناڈو نے مدروائی کے پولیس کمشنر اور کلکٹر سے رپورٹ طلب کی ہے