رمضان کے دو دہے مکمل ‘ حکومت کے خصوصی انتظامات ندارد

   

تمام متعلقہ محکمہ جات پر سرکاری ہدایات بے اثر۔ کئی علاقوں سے کچرا تک صاف نہیں کیا گیا
حیدرآباد۔21اپریل (سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ ‘ محکمہ اقلیتی بہبود‘ تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ‘ محکمہ بلدی نظم و نسق کے علاوہ محکمہ برقی کے عہدیداروں کی جانب سے ماہ رمضان المبار ک کے آغاز سے قبل متعدد اجلاس منعقد کرتے ہوئے ماہ صیام کی آمد کی تیاریوں اور اس ماہ مبارک کے دوران خصوصی انتظامات کی ہدایات دینے کے دعوے کئے گئے لیکن ان ہدایات پر شہر یا ریاست کے کس حصہ میں عمل آوری ہورہی ہے کوئی نہیں بتا سکتا کیونکہ شہر حیدرآباد میں ماہ رمضان المبارک کے آغاز کے دو ہفتہ سے زائد کا وقت گذرنے کے باوجود بھی محکمہ برقی کی جانب سے دارالحکومت میں بلا وقفہ برقی سربراہی کو یقینی بنانے کے اقدامات کو ممکن نہیں بنایا جاسکا ہے۔حکومت کی جانب سے رمضان المبارک کے دوران بہتر اور معیاری انتظامات کو یقینی بنانے کے تیقنات کے بعد تمام محکمہ جات کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ اپنے محکمہ سے متعلق کاموں کی عاجلانہ تکمیل کریں اور رمضان المبارک کے آغاز سے قبل تمام کاموں کو مکمل کیا جائے ان ہدایات کے بعد محکمہ برقی کی جانب سے روزانہ 2تا3 گھنٹے برقی سربراہی منقطع کرتے ہوئے یہ کہا جاتا رہا کہ رمضان کی تیاریوں کے سلسلہ میں مرمتی کام جاری ہیں لیکن اب جبکہ نصف رمضان گذر چکا ہے ایسے میں بھی برقی سربراہی منقطع ہونے کا سلسلہ جاری ہے لیکن کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ سال 2014 کے بعد سے 2018 تک تلنگانہ اسٹیٹ سدرن پاؤر ڈسٹریبیوشن کمپنی لمیٹیڈ کی جانب سے رمضان کے دوران چارمینار پرسابق ڈائریکٹر ٹی ایس ایس پی ڈی سی ایل جناب میر کمال الدین علی خان کی نگرانی میں کنٹرول روم قائم کیا جاتا رہا تھا لیکن تین برسوں سے تو کنٹرول روم کا قیام بھی عمل میں نہیں لایا گیا اور نہ ہی 24گھنٹے دستیاب رہنے و الے کسی اعلیٰ عہدیدارکی تعیناتی عمل میں لائی گئی جس کے سبب پرانے شہر میں برقی سربراہی منقطع ہونے کے باوجود کوئی کاروائی نہیں کی جا رہی ہے۔ حکومت ‘ وقف بورڈ اور بلدیہ کی جانب سے رمضان المبارک کی آمد کی تیاریوں کے سلسلہ میں منعقد کئے گئے اجلاسوں کے دوران ہوئے فیصلوں پر عدم عمل آوری سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ ریاستی حکومت اور محکمہ جات کو اقلیتوں کے مسائل سے کس حد تک دلچسپی ہے۔محکمہ برقی ہی نہیں بلکہ اگر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات بھی سامنے آئے گی کہ شہر کے کئی محلہ جات میں روزانہ کے اساس پر کچہرے کی نکاسی کے اقدامات تک ممکن نہیں ہوئے ۔م