واشنگٹن ۔ 30 مئی (ایجنسیز) امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعہ کے روز محکمہ خارجہ میں اپنے پاکستانی ہم منصب سے ملاقات کی، جبکہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمہ کیلئے جاری مذاکرات طوالت اختیار کر رہے ہیں۔ پاکستانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی ان کے امریکی ہم منصب مارکو روبیو سے ملاقات کے دوران پاکستان اور امریکہ کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور ثقافتی تعاون بڑھانے اور انسداد دہشت گردی اور سیکوریٹی کے امور سے متعلق پارٹنر شپ کو مزید تقویت دینے پر اتفاق ہوا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعہ کے روز محکمہ خارجہ میں اپنے پاکستانی ہم منصب سے ملاقات کی۔ وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ یہ ملاقات روبیو کے پاکستان کے دیرینہ حریف ملک بھارت کے دورے کے چند دن بعد ہوئی۔ اس ملاقات کے بعد دونوں حکام نے میڈیا سے گفتگو نہیں کی۔ دوسری جانب، ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی نے جمعہ کو ایک ذریعہ کے حوالے سے بتایا کہ (معاہدے کی) تحریر کو ابھی حتمی شکل نہیں دی گئی ہے اور ممکنہ مفاہمت کی یادداشت کے الفاظ میں ’’حالیہ دنوں میں کچھ تبدیلیاں کی گئی ہیں۔‘‘ پاکستان میں ہونے والے امن مذاکرات کا پہلا دور کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گیا تھا۔ تاہم خبر رساں ادارے ‘روئٹرز‘ نے جمعرات کو ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک ابتدائی اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ اس معاہدہ کے تحت اپریل میں اعلان کردہ جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کے ذریعہ جہاز رانی پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں گی۔ تاہم، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ابھی تک اس معاہدے کی منظوری نہیں دی ہے۔
اگرچہ اسحاق ڈار نائب وزیر اعظم بھی ہیں، لیکن ایران تنازعہ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی قیادت آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کر رہے ہیں۔ اس جنگ میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ صدر ٹرمپ مارچ کے وسط سے بارہا کہہ چکے ہیں کہ جنگ کا خاتمہ قریب ہے، اگرچہ واشنگٹن اور تہران نے عوامی سطح پر کسی مشترکہ نکتے پر پہنچنے کے حوالے سے بہت کم پیش رفت دکھائی ہے۔