شادی کا وعدہ کرکے لاپتہ ۔ رحمت آباد کی درگاہ کا مجاور گرفتار
حیدرآباد : /17 فبروری (سیاست نیوز) کمسن لڑکی کو روحانی علاج کے نام پر جنسی استحصال کرنے والے ایک درگاہ کے مجاور کو لنگرحوض پولیس نے حراست میں لے لیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹولی چوکی ایم ڈی لائینس کی ساکن ایک کم عمر لڑکی کا رحمت آباد کی ایک درگاہ کے مجاور حفیظ پاشاہ نے علاج کے بہانے تین سال تک استحصال کرتا رہا اور /11 فبروری کو حیدرآباد میں شادی کا وعدہ کیا تھا ۔ حفیظ پاشاہ کے شادی کے وعدہ کے بعد لڑکی کے والدین نے شیخ پیٹ کا بنکویٹ ہال بک کروایا تھا اور عصر میں نکاح طئے تھا لیکن مجاور نے اپنا فون بند کرکے امیرپیٹ کے دواخانہ میں شریک ہوکر طبعیت ناساز ہونے کا بہانہ بنایا ۔ اس کا پتہ چلنے پر متاثرہ لڑکی کے والدین فکر مند ہوگئے اور دریافت کیا ۔ حفیظ پاشاہ کا فون مسلسل بند ہونے سے لڑکی نے لنگر حوض پولیس سے شکایت درج کروائی جس پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کیا تھا ۔ جنسی استحصال کا معاملہ ہونے کے نتیجہ میں لنگر حوض پولیس نے سٹی پولیس کے بھروسہ سنٹر کو منتقل کیا جہاں پر لڑکی نے یہ سنسنی خیز انکشاف کیا کہ اس کا استحصال 15 سال کی عمر سے کیا جارہا تھا اور روحانی علاج کیلئے اس سے شادی لازم قرار دی تھی ۔ اس انکشاف کے بعد لنگر حوض پولیس نے درج کردہ مقدمہ کی دفعات میں ترمیم کرکے پوکسو ایکٹ نافذ لاگو کیا ۔ پولیس نے حفیظ پاشاہ کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کردی اور مزید تحقیقات جاری ہیں ۔ متاثرہ لڑکی اور اس کے والد نے یہ بتایا کہ روحانی علاج کے نام پر رحمت آباد درگاہ کے مجاور حفیظ پاشاہ نے کئی لڑکیوں کا جنسی استحصال کیا اور پولیس سخت کارروائی کرے اور مستقبل میں معصوم لڑکیاں اس کے چنگل میں نہ پھنسے ۔ پولیس نے بتایا کہ حفیظ پاشاہ کے خلاف اہم شواہد موبائل فون ریکارڈنگ کی شکل میں ملے ہیں جس کا تجزیہ کیا جارہا ہے ۔ محروس ملزم کو نامعلوم مقام پر رکھ کر تفتیش کی جارہی ہے اور جلد گرفتاری کا اعلان کرکے عدالت میں پیش کیا جائیگا ۔ ب