کھرگون میں تشدد کے بعد مکانات گرانے پرصدر مجلس کا شدید ردعمل
نئی دہلی،13اپریل: مدھیہ پردیش کے کھرگون تشدد میں ملوث افراد کے خلاف ضلع انتظامیہ اور پولیس نے کارروائی شروع کردی ہے۔ انتظامیہ حملے میں شامل افراد کے گھروں کو توڑ رہی ہے۔ اس کارروائی کے خلاف لوک سبھا رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے مدھیہ پردیش کی شیوراج حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ اویسی نے مدھیہ پردیش حکومت کی کارروائی کو مکمل طور پر غیر قانونی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کے بنیادی اصولوں پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔ یہ سراسر غلط ہے۔اسد الدین اویسی نے کہا کہ مدھیہ پردیش کی حکومت روسی فوج کی طرح برتاؤ کر رہی ہے، جیسے روسی فوج یوکرین میں مکانات کو مسمارکر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گھر کیوں گرائے جا رہے ہیں۔ خاندان بے سہارا ہو جائیں گے۔ حکومت کے اس اقدام کے حوالے سے عدالت کا دروازہ ضرور کھٹکھٹائیں گے۔ واضح رہے کہ چیف منسٹر مدھیہ پردیش شیوراج سنگھ چوہان کی ہدایت پر ضلع انتظامیہ اور پولیس نے رام نومی کے جلوس پر سنگباری کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے گھروں کو منہدم کررہی ہے۔ عہدیداروں نے تقریباً 45 گھروں اور دکانوں پر بلڈوزر چلا دیا۔ پیر کو تقریباً 16 مکانات اور 29 دکانیں منہدم کی گئی۔اندور کے ڈویژنل کمشنر پون شرما نے کہاکہ کھرگون انتظامیہ نے رام نومی جلوس کے دوران پتھراؤ کرنے والوں کی جائیدادوں کو منہدم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پولیس نے حالات کو قابو میں کر لیا ہے۔ کھرگون میں 84 ملزمین کو گرفتار کرنے کے بعد کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔رام نومی کے موقع پر نہ صرف مدھیہ پردیش بلکہ اتراکھنڈ ، کرناٹک ، مغربی بنگال میں بھی جلوس کے موقع پر تشدد کے واقعات پیش آئے تھے ۔