روس حماس سے تعلقات بڑھانے کا خواہاں: ہشام قاسم

   

استنبول:اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کے پولٹ بیورو کے رکن اور بیرون ملک میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ہشام قاسم نے کہا ہے کہ حماس قیادت کے روس کے دورے کو مسئلہ فلسطین پر ایک پیش رفت کی صورت دیکھا جانا چاہیے۔اس دورہ کے دوران روس کے رہنماں نے حماس کے ساتھ تعلقات استوار کرنے میں اپنی دلچسپی کا اظہار کیا اور مسئلہ فلسطین اور علاقائی پیش رفت پر حماس کی رائے کو غور سے سنا۔مرکز اطلاعات فلسطین کو موصول ہونے والے ہشام قاسم کے بیان میں کہا گیا کہ یہ دورہ حماس اور روس میں تعلقات کو بتدریج ترقی کی طرف لے کر جائے گا۔ایسے تعلقات جن میں یہ یقین دہانی ہو کہ جب تک روس ایک عظیم عالمی طاقت ہے وہ حماس کو سہولت فراہم کرتا رہے اور بین الاقوامی نظام میں حماس کے موقف کی تائید کرتا رہے۔انہوں نے حماس کے قائدین کے دورہ روس کو اہم سنگ میل قرار دیا اور کہا روس دنیا کی ایک بڑی طاقت ہے اور اس ملک کے دورے سے ثابت ہوا کہ حماس جس طرح عوام میں اپنی جڑیں رکھتی ہے اسی طرح دنیا میں بھی وہ تنہا نہیں۔ہشام قاسم نے کہا حماس کے روس سے تعلقات قدیم ہیں۔ ان تعلقات کی تاریخ پندرہ برس سے بھی زیادہ پر محیط ہے۔ حماس کو توقع ہے روس کے ساتھ اس کے روابط غزہ کا اسرائیلی محاصرہ ختم کرانے اور فلسطینیوں پر صہیونی جرائم کو رکوانے میں اضافی مدد فراہم کریں گے۔