ماسکو : روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے جمعرات کو مراقش کے شاہ محمد ششم کے ساتھ پرامن مقاصد کے لیے نیوکلیئر توانائی کے استعمال کی ترقی کے حوالے سے ایک تعاون کے معاہدے کی توثیق کی۔روسی خبر رساں ایجنسی ’آر آئی اے نووستی‘ نے بتایا کہ تعاون کے شعبوں میں مراقش میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، نیوکلیئر توانائی کے ری ایکٹرز کی تعمیر اور ڈیزائن کے ذریعے پانی کو صاف کرنے کے پلانٹس کا قیام، یورینیم کے ذخائر کی تلاش، سائنسی تحقیق کی ترقی، طبی اور صنعتی شعبوں میں نیوکلیئر توانائی کے استعمال کے لیے تحقیقی مراکز کا قیام شامل ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس معاہدے میں پاور اور ریسرچ ری ایکٹرز کو نیوکلیئر ایندھن کی فراہمی اور تابکار فضلے کو ٹھکانے لگانا، نیوکلیئر ایٹم کے شعبے میں بنیادی اور عملی تحقیق کے ساتھ ساتھ پرامن شعبوں میں تابکاری کی تکنیک کا استعمال بھی شامل ہے۔خبر رساں ایجنسی نے کہا کہ معاہدے کی شرائط میں کہا گیا ہے کہ روس مراقش کو ملک میں معدنی وسائل کی بنیاد کا مطالعہ کرنے، نیوکلیئر پاور پلانٹس میں کارکنوں کو تربیت دینے اور مراقش کے مرکز برائے نیوکلیئر توانائی، سائنس اور ٹیکنالوجی کے کارکنوں کی مدد کرے گا۔