60 فیصد گاڑیاں اقساط کی عدم ادائیگی کے سبب بند، اضافی ٹیکسوں سے دستبرداری کیلئے اسوسی ایشن کا مطالبہ
\
حیدرآباد۔ 31 جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ میں ٹرانسپورٹ آپریٹرس نے روڈ ٹیکس اور گرین ٹیکس میں اضافے کی مذمت کی ہے اور اضافی ٹیکس سے فوری دستبرداری کا مطالبہ کیا ہے۔ تلنگانہ کیابس اینڈ بس آپریٹرس اسوسی ایشن نے کہا کہ ٹرانسپورٹ صنعت سنگین بحران کا شکار ہے۔ حکومت نے روڈ ٹیکس میں فی نشست 300 روپے کا اضافہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ گرین ٹیکس کو سالانہ 200 روپے سے بڑھاکر 4000 روپے کردیا گیا۔ اسوسی ایشن کے صدر سید نظام الدین نے کہا کہ روڈ ٹیکس میں 50 نشستی بسوں کے لئے 15000 روپے کا اضافہ کردیا گیا جو پہلے ہی سے بحران کا شکار ٹرانسپورٹ صنعت کے لئے بھاری بوجھ ہے۔ آپریٹرس ٹیکسوں میں اضافے کے نتیجہ میں اپنے کاروبار بند کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دو برسوں تک کورونا وباء اور لاک ڈاؤن کے سبب ٹرانسپورٹ انڈسٹری کو بھاری نقصان ہوا ہے۔ ٹرانسپورٹ آپریٹرس کی تقریباً 60 فیصد گاڑیاں بینکوں اور مالیاتی اداروں نے اقساط کی عدم ادائیگی پر ضبط کرلی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپریٹرس اپنی گاڑیوں کے بقائے جات ادا کرتے ہوئے دوبارہ چلانے کے موقف میں نہیں ہیں ایسے میں حکومت کی جانب سے ٹیکسوں میں اضافہ غیر انسانی فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ 40 فیصد باقی گاڑیوں کے ساتھ کاروبار شروع کرنے کی کوششوں کو حکومت کے فیصلے سے دھکہ لگا ہے۔ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے علاوہ انشورنس پریمئم میں اضافہ ہوگیا۔ ٹرانسپورٹ انڈسٹری ٹیکسوں کی ادائیگی کے موقف میں نہیں ہے۔ سید نظام الدین نے کہا کہ ٹرانسپورٹ انڈسٹری زیادہ تر آئی ٹی شعبہ اور سیاحت پر انحصار کرتی ہے لیکن یہ دونوں شعبے ابھی تک کورونا سے ابھر نہیں پائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گاڑیوں کے انشورنس کی رقم 35000 سے بڑھ کر 70000 ہزار ہوچکی ہے۔ ٹرانسپورٹ انڈسٹری اپنے مسائل کے سلسلہ میں چیف منسٹر وزیر ٹرانسپورٹ سے نمائندگی کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ر