ریاستی ایجنسیوں پر حصول قرض کے لیے دباؤ

   

حیدرآباد ۔ 11 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : ایک زمانے میں حکومتی قرضوں کے سخت ترین ناقد ، کانگریس نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنا انداز بدل دیا ۔ ان کی حکومت نے قرض لینے میں نئے ریکارڈ قائم کئے تھے ۔ اب ریاستی حکومت مبینہ طور پر ریاستی ایجنسیوں پر بھی دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ ہر ممکن طریقے سے فنڈ اکٹھا کریں ۔ تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن کی جانب سے قرض بازاروں کے ذریعہ دس ہزار کروڑ اکٹھے کرنے کے بعد اب حیدرآباد میٹرو پولیٹن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کی باری ہے کہ وہ ایک مرچنٹ بینکر کو قرض کی منڈیوں کے ذریعہ بیس ہزار کرور روپئے اکٹھا کرے یہ سب ادائیگی کر کے کمیشن کے طور پر رقم حاصل کرنا ہے ۔ ٹی جی آئی آئی سی نے ایک مرچنٹ بینکر کے ذریعہ دس ہزار کروڑ اکٹھا کئے اور کمیشن کے طور پر 100 کروڑ ادا کئے ۔ اگر ایچ ایم ڈی اے کے اس منصوبے کامیاب ہوتے ہیں تو وہ کمیشن کے طور پر کتنی رقم خرچ کرے گا ۔ یہ دیکھنا باقی ہے ۔ حکام نے کہا کہ ان دونوں ایجنسیوں کی طرف سے قرض کی منڈی کو استعمال کرنے کا اقدام مختلف ذرائع سے فنڈ اکٹھا کرنے کے لیے ریاستی اداروں پر دباؤ ڈالنے کی عکاسی کرتاہے ۔ جولائی میں TGIIC نے ایک مرچنٹ بینکر کو منتخب کرنے کے لیے ایک درخواست برائے تجویز (RFP) پیش کی تاکہ سرمائے کے اخراجات اور عام مقاصد کے لیے قرض بازار کے ذریعے فنڈز اکٹھا کئے جائیں ۔ مرچنٹ بینکر کو ورک آرڈر جاری ہونے کی تاریخ سے چھ ماہ کے اندر پانچ ہزار کروڑ روپئے اکٹھا کرنے تھے ۔ اس کے مطابق ایک مرچنٹ بینکر کی شناخت کی گئی اور دس ہزار کروڑ روپئے پہلے ہی اکٹھے کئے جاچکے ہیں ۔ TGIIC کے ایک سینئیر اہلکار نے کہا کہ حکام اس بات پر سختی کررہے ہیں کہ جن مقاصد کے لیے فنڈز اکٹھے کئے جارہے تھے اس کے علاوہ اس پر کیا سود ادا کیا جارہا تھا ۔ اب اس کی پیروی کرتے ہوئے ایچ ایم ڈی اے بھی ایک مرچنٹ بینکر کو فنڈز اکٹھا کرنے کے لیے تیار کررہا ہے اور اس نے ایک RFP جاری کیا ہے ۔ شرائط کے مطابق مرچنٹ بینکر کو ورک آرڈر جاری کرنے کی تاریخ سے 18 مہینوں کے اندر کم از کم بیس ہزار کروڑ روپئے ( کم از کم پانچ ہزار کروڑ روپئے چار مہینوں کے اندر اکٹھے کئے جانے ) جمع کرنے کا عہد دینا ہوگا ۔ ابتدائی طور پر معاہدے کی مدت 18 ماہ ہے اور اس میں مزید توسیع کی جاسکتی ہے تاہم یہ عوامل پر منحصر ہے ۔ بشمول مرچنٹ بینکر مخصوص مدت کے اندر بیس ہزار کروڑ روپئے اکٹھا کرنا ہے ۔ ورک آرڈر کو زیادہ سے زیادہ 12 ماہ تک بڑھایا جاسکتا ہے ۔ توسیعی مدت کے دوران مرچنٹ بینکر HMDA کی ضرورت کے مطابق اضافی فنڈز اکٹھا کرنے کا ذمہ دار ہوگا ۔ مارکٹ کے منظر نامے پر غور کرتے ہوئے مالیاتی ماہرین کا خیال ہے کہ ایچ ایم ڈی اے کے لیے مطلوبہ رقم بڑھانا اور ایک چیلنج ہوگا اور ساتھ ہی اسے کافی زیادہ شرح سود بھی ادا کرنا پڑے گا ۔ ماضی میں گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن نے مختلف ترقیاتی کاموں ، خاص طور پر اسٹریجٹک و ڈیولپمنٹ پروگرام کے پراجکٹوں کو انجام دینے کے لیے میونسپل بانڈز کے ذریعہ 1000 کروڑ روپئے اکٹھے کئے تھے ۔ تاہم فنڈز ایس بی آئی کی مدد اور روپئے کی کم شرح سود پر اکٹھے کئے گئے ۔ حکومت کارپوریشن کی جانب سے ضمانتیں بڑھا سکتی ہے عام طور پر زیادہ تر حکومتیں ضمانتوں میں توسیع سے گریز کرتی ہیں کیوں کہ جمع کی گئی رقم اس کی مالی ذمہ داری اور بجٹ مینجمنٹ کی حدود میں شامل کیا جائے گا ۔ اس سے آر بی آئی کے ذریعہ مزید قرض حاصل کرنے کی کوششوں میں رکاوٹ پڑ سکتی ہے ۔۔ ش