فیس ری ایمبرسمنٹ کی عدم اجرائی سے مشکلات، ایس آئی او قائدین کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔/12فروری، ( سیاست نیوز) اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (SIO) تلنگانہ یونٹ نے اسمبلی کے بجٹ سیشن کے پیش نظر تعلیم اور نوجوانوں کی ترقی پر مناسب بجٹ مختص کرنے کیلئے حکومت کو سفارشات پیش کی ہیں۔ ایس آئی او کے ریاستی صدر محمد فراز احمد، ریاستی سکریٹری محمد حماد الدین، سید امام الدین، محمد تاج اور ابصارالحق نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بجٹ تجاویز جاری کی۔ ایس آئی او نے طلبہ اور نوجوانوں کے مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم، روزگار اور اخلاقی مسائل پر توجہ کی ضرورت ہے۔ سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی کمی، انفرااسٹرکچر کی فراہمی اور ڈراپ آؤٹ کی شرح پر قابو پانے کیلئے تجاویز پیش کی گئی۔ ایس آئی او نے ریاستی بجٹ میں کم از کم 20 فیصد رقومات تعلیم کیلئے مختص کرنے کا مطالبہ کیا۔ اسکل ڈیولپمنٹ کیلئے حکومت کی سطح پر پروگرامس ناکافی ہیں اور پالیسی کی کمی کے نتیجہ میں طلباء اپنی صلاحیتوں کو صحیح سمت دینے سے قاصر ہیں۔ ریاست میں بیروزگاری کی شرح 16.6 فیصد ہے۔ ایس آئی او نے اسکل ڈیولپمنٹ اور آرٹیفیشل انٹلیجنس اور انٹر پرینور شپ پروگراموں میں اضافی سرمایہ کاری کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں فیس ری ایمبرسمنٹ کی عدم اجرائی سے طلبہ کو مشکلات کا سامنا ہے۔300 کروڑ میں محض 41.86 کروڑ جاری کئے گئے اور 1.2 لاکھ سے زائد درخواستیں زیر التواء ہیں۔ حکومت کو اقلیتی طلبہ کی اسکالر شپ فوری جاری کرنی چاہیئے۔ سرکاری اسکولوں میں اساتذہ اور انفرااسٹرکچر کی کمی کو فوری دور کیا جائے۔ 1
ایس آئی او کی جانب سے حکومت کے ذمہ داروں کو سفارشات روانہ کی جارہی ہیں۔1