ریاستی حکومت کی تعلیمی کانفرنس ، عبور ی وائس چانسلرس کو مدعو نہیں کیا گیا

   

کلکتہ : ریاستی محکمہ تعلیم کی جانب سے منعقد تعلیمی کانفرنس میں ریاستی یونیورسٹیوں میں گورنر کے مقرر کردہ وائس چانسلرز کو مدعو نہیں کیا گیا ہے ۔ تاہم رجسٹرار،جن میں سے تقریباً سبھی ریاست کے ملازم ہیں کو مدعو کیا گیا تھا۔ وزیر تعلیم برتیہ باسونے کہا کہ وائس چانسلروں کی تقرری کو عدالت نے عظمی نے غیر قانونی قرار دیا ہے ۔ ساتویں عالمی بنگال تجارتی کانفرنس 21 اور 22 نومبر کو منعقد ہوگی۔ قبل ازیں محکمہ تعلیم نے ایک تجارتی انجمن کے تعاون سے جمعہ کو تعلیمی کانفرنس کا انعقاد کیا۔ اندرون و بیرون ملک سے متعدد یونیورسٹی انتظامیہ کو مدعو کیا گیا تھا۔ اس کانفرنس کو محکمہ تعلیم نے ایجوکیشن سمپوزیم کا نام دیا تھا۔ کانفرنس میں مصنوعی ذہانت کے علاوہ اختراعی شعبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ طلباء کے تبادلے پر بھی تبادلہ خیال کیا جاتا ہے ۔ ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی کے علاوہ، محکمہ تعلیم نے کئی تعلیمی اداروں کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے ۔ میٹنگ میں وزیر تعلیم سے وائس چانسلرز کو مدعو نہیںکئے جانے پر سوال اٹھایا گیا۔ برتیہ با سونے کہاکہ ‘‘سپریم کورٹ پہلے ہی بتا چکی ہے کہ جس طریقے سے عبوری وائس چانسلروں کی تقرری چانسلراور گورنر نے کی ہے وہ غیر قانونی ہے ۔اس لئے یونیورسٹیوں کے عبوری وائس چانسلر اصل نمائندے نہیں ہے ۔ ریاست نے ریاستی یونیورسٹیوں میں عارضی وائس چانسلروں کی تقرری کے چانسلر اور گورنر سی وی آنند بوس کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ کا رخ کیا تھا۔ وائس چانسلروں کی تقرری پر ریاستی حکومت اور بوس کے درمیان تنازع کے نتیجے میں، ریاست کی 31 یونیورسٹیوں میں اب بھی کوئی مستقل وائس چانسلر نہیں ہے ۔ 21 اگست کو سپریم کورٹ نے مستقل وائس چانسلر کی تقرری کا عمل شروع کرنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد 15 ستمبر کی سماعت میں سپریم کورٹ نے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے خود سرچ کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ریاستی حکومت، گورنر اور یو جی سی کو سرچ کمیٹی کے لیے تین سے پانچ نامور افراد کے ناموں کی سفارش کرنی چاہیے ۔
ساتھ ہی گورنر اور یونیورسٹیوں کے چانسلر سے بھی سوال کیا گیا کہ انہوں نے عدالتی حکم کے باوجود وائس چانسلر کی تقرری پر ریاستی حکومت سے ملاقات کیوں نہیں کی؟ اسی دن جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ وہ گورنر کے جواب پر منحصر نہیں بیٹھیں گے ۔ 6 اکتوبر کو سپریم کورٹ نے کہا کہ گورنر کی جانب سے عبوری وائس چانسلر کے طور پر مقرر کیے گئے افراد کو کوئی مراعات نہیں ملیں گی۔ وہ یونیورسٹی کا کوئی اہم فیصلہ نہیں لے سکتے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ گورنر اب عبوری وائس چانسلر کا تقرر نہیں کر سکتے ہیں۔ وزیر تعلیم نے ہفتے کے روز اس فیصلے کا حوالہ دیا ۔