ریاست میں امن و ضبط کی صورتحال پر کانگریس کا کُل جماعتی اجلاس

   

ریونت ریڈی، پروفیسر ہرگوپال، کودنڈا رام کی شرکت، قابل پولیس عہدیداروں کیساتھ ناانصافی
حیدرآباد۔/15 جون،( سیاست نیوز) ریاست میں خواتین اور لڑکیوں پر مظالم کے واقعات میں اضافہ اور امن و ضبط کی ابتر صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے کانگریس کی جانب سے آج کُل جماعتی اجلاس کا اہتمام کیا گیا۔ صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے اجلاس کی صدارت کی۔ پروفیسر ہرگوپال، صدر نشین تلنگانہ جنا سمیتی پروفیسر کودنڈا رام، سی ایچ سدھاکر، ڈاکٹر جے گیتا ریڈی، ملوروی، سی پی آئی قائد بی ملیش کے علاوہ سی پی ایم، سی پی آئی ایم ایل، تلگودیشم، بی ایس پی، وائی ایس آر کانگریس تلنگانہ پارٹی اور مختلف سماجی اور خواتین کی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں متفقہ طور پر قراردادیں منظور کرتے ہوئے حکومت سے خواتین اور لڑکیوں کے تحفظ کیلئے اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔ اجلاس کے ذریعہ حکومت سے جو مطالبات کئے گئے ان میں خواتین اور لڑکیوں پر مظالم کے مقدمات کی اندرون 3 ہفتے فاسٹ ٹریک عدالتوں میں یکسوئی اور خاطیوں کو سخت سزاء دینے کا مطالبہ شامل ہے۔ کُل جماعتی اجلاس میں جوبلی ہلز واقعہ کی متاثرہ لڑکی کو تحفظ فراہم کرنے اور تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ قائدین نے سیاسی اور دیگر ذی اثر افراد کے کسی بھی دباؤ کے بغیر کارروائی کی مانگ کی۔ ہر ضلع میں خواتین پر مظالم کے واقعات سے نمٹنے کیلئے خصوصی سل قائم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ کُل جماعتی اجلاس میں جملہ 34 مطالبات پر مبنی قرارداد منظور کی گئی جسے ریاستی حکومت کو روانہ کیا جائے گا۔ صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے الزام عائد کیا کہ ریاست میں خواتین اور لڑکیاں غیر محفوظ تصور کررہی ہیں۔ حیدرآباد میں امن و ضبط کی صورتحال پر وزراء اور عہدیداروں کے ساتھ چیف منسٹر کو اجلاس منعقد کرنا چاہیئے۔ کُل جماعتی اجلاس کے علاوہ خواتین اور عوامی تنظیموں سے مشاورت کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں پیش آئے واقعات نے سماج کو شرمسار کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر قابل اور اہل پولیس عہدیداروں کو اہم پوسٹنگ سے محروم کرتے ہوئے حکومت سے قربت رکھنے والے عہدیداروں کو ترجیح دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس عہدیدار تقریباً 7 سال سے ایک ہی عہدہ پر برقرار ہیں۔ بعض آئی پی ایس عہدیداروں کو دو اور اس سے زائد محکمہ جات کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ جوبلی ہلز واقعہ کے مقدمہ کو کمزور کرنے کیلئے منصوبہ بند طریقہ سے ویڈیو وائرل کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ 4 آئی پی ایس عہدیداروں کے تحت 15 محکمہ جات ہیں۔ دیانتدار عہدیداروں کو ڈائرکٹر جنرل پولیس کے دفتر سے اٹایچ کیا گیا ہے۔ بعض ریٹائرڈ عہدیداروں کو دوبارہ پوسٹنگ دی گئی ہے۔ ر