25 ہزار ٹیچرس کو ترقی کا انتظار ، پے رویژن اور دوسرے مسائل پر آج سے ٹیچرس کا احتجاج
حیدرآباد :۔ سرکاری ملازمین کی ناراضگی واجبی ہے مگر حکومت اس کو نظر انداز کررہی ہے ۔ جس کا انتخابی نتائج پر بھی پوری طرح اثر نظر آرہا ہے ۔ تنخواہوں پر نظر ثانی کے معاملے میں حکومت ٹال مٹول کی پالیسی اپنا رہی ہے ۔ 25 ہزار سے زائد ٹیچرس ترقیوں کا انتظار کررہے ہیں جس میں مایوس ہو کر 8 ہزار ٹیچرس ریٹائرڈ ہوگئے ہیں کئی محکمہ جات میں سینکڑوں خالی جائیدادیں ہیں ۔ محکمہ پولیس میں ترقیوں کے ساتھ پوسٹنگ بھی بہت بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے ۔ وعدے کے مطابق ملازمتیں نہ ملنے سے بیروزگار نوجوانوں میں ناراضگی پائی جاتی ہے ۔ ٹیچرس تنظیموں نے اپنے مسائل کی یکسوئی کے لیے 9 دسمبر سے ریاست بھر میں احتجاجی مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ تلنگانہ کی تحریک میں ملازمین تنظیموں نے سرگرم رول ادا کیا ہے ۔ کے سی آر نے علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد سرکاری ملازمین اور بے روزگار نوجوانوں سے مکمل انصاف کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔ مگر گذشتہ 6 سال سے سرکاری ملازمین اور نوجوان طبقہ حکومت کی بے اعتنائی کی وجہ سے بہت ناراض ہے ۔ چیف منسٹر ملازمین کو نظر انداز کر کے تنظیموں کے صدور اور دوسرے اہم قائدین کو سیاسی عہدے فراہم کرتے ہوئے حکومت کے خلاف اٹھنے والی آواز کو دبانے میں کامیاب ہوگئے مگر سرکاری ملازمین کی ناراضگی کو دور کرنے میں ناکام رہے ۔ وقت پر تنخواہوں پر نظر ثانی کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے پے رویژن کمیٹی تشکیل دی گئی ۔ اس کی رپورٹ وصول ہونے کے باوجود 2 سال سے تنخواہوں پر نظر ثانی نہیں کی گئی ۔ 25 ہزار سے زائد ٹیچرس ترقیوں کا انتظار کررہے ہیں ۔ گذشتہ 6 سال سے 8 ہزار ملازمین ترقیوں کے انتظار میں مایوس ہو کر ریٹائرڈ ہوگئے ۔ ہر ماہ 100 سے زائد سرکاری ملازمین ریٹائرڈ ہورہے ہیں ۔ متحدہ آندھرا پردیش میں ہیڈ ماسٹر ریٹائرڈ ہوتے ہی دوسرے ہی دن سینیاریٹی کی فہرست میں شامل ملازمین کو اس کی جگہ ترقی دی جاتی تھی ۔ اس طرح سیکنڈری گریڈ ، اسکول اسسٹنٹ کے علاوہ تمام سطح کے عہدوں پر پہلی تاریخ کو ہی ترقی مل جانے کا نظام رائج تھا جس سے نچلے سطح کے مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کے لیے نوٹیفیکشن جاری کیا جاتا تھا ۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد حکومت نے اس نظام کو ختم کردیا ہے ۔ جس کے بعد سے ترقیوں کا عمل رک گیا ہے ۔ ریاست میں تقریبا 2 ہزار افراد ہیڈ ماسٹر ، 7 ہزار افراد اسکول اسسٹنٹ 10,479 لینگویج پنڈت ، پی ای ٹی اور ایم ای او عہدوں کی ترقی کا انتظار کررہے ہیں ۔ منڈل ایجوکیشن آفیسر کے ریاست میں 510 جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔ بی ایڈ اور ڈائیٹ کالجس میں 354 جائیدادیں مخلوعہ ہیں ۔ جس کے خلاف ٹیچرس تنظیموں نے 9 اور 10 دسمبر کو لنچ کے موقع پر احتجاج درج کراتے ہوئے اپنے احتجاج کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔۔
بھارت بند،حیدرآباد میں
آئی ٹی پروفیشنلس کا احتجاج
حیدرآباد۔ بھارت بند کے موقع پر شہر حیدرآباد کے آئی ٹی پروفیشنلس نے رائے درگم میٹرو اسٹیشن میں احتجاج کیا۔ان احتجاجیوں نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈس تھام کر کسانوں کی حمایت میں نعرے بازی کی اور مودی زیرقیادت مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان سیاہ زرعی قوانین کو فوری واپس لیاجائے ۔انہوں نے کسانوں کے تحفظ کے ذریعہ ملک کو بچانے پر زور دیا۔صدر فورم فار آئی ٹی پروفیشنلس وائی کرن چندرا نے میڈیا کو بتایا کہ ان بلز کے ذریعہ زرعی شعبہ کو کارپوریٹ شعبہ کے حوالے کیاجارہا ہے ۔امیزون، بگ باسکٹ،ریلائنس مکمل زرعی معیشت کو اپنے کنٹرول می