ریاست میں فیملی پلاننگ آپریشن عارضی طور پر روک دیئے گئے

   


ڈسٹرکٹ اور ٹیچنگ ہاسپٹل میں آپریشن کی ہدایت، ابراہیم پٹنم واقعہ کے بعد حکومت کا اہم فیصلہ
حیدرآباد ۔یکم ستمبر (سیاست نیوز) رنگا ریڈی کے ابراہیم پٹنم میں فیملی پلاننگ آپریشن کے بعد چار خواتین کی موت کے واقعہ کے بعد حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے ریاست بھر میں فیملی پلاننگ آپریشنوں کو عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کے فیصلہ کے مطابق فیملی پلاننگ آپریشن کے لئے کیمپس منعقد نہیں کئے جائیں گے بلکہ ڈسٹرکٹ ہاسپٹلس اور ٹیچنگ ہاسپٹلس میں فیملی پلاننگ آپریشن کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ ابراہیم پٹنم کے واقعہ میں چار خواتین کی موت کے بعد حکومت نے اس طرح کے واقعات کو روکنے کی حکمت عملی تیار کی ہے۔ حکومت نے ابراہیم پٹنم کے سی ایچ سی سپرنٹنڈنٹ کو معطل کردیا ہے۔ اس کے علاوہ آپریشن کرنے والے سرجن کے لائسنس کو تلنگانہ میڈیکل کونسل نے عارضی طور پر منسوخ کردیا ہے ۔ ڈائرکٹر پبلک ہیلت سرینواس راؤ کے مطابق اس واقعہ کی مکمل تحقیقات کی جارہی ہے اور توقع ہے کہ اندرون ایک ہفتہ قطعی رپورٹ حکومت کو موصول ہوجائے گی ۔ 25 اگست کو ابراہیم پٹنم کے سی ایچ سی نے ڈبل پنکچر لیپرو اسکوپی طریقہ کار کے تحت خواتین کا فیملی پلاننگ آپریشن کیا گیا تھا ۔ جملہ 34 خواتین کا آپریشن کیا گیا ۔ 4 خواتین کی طبیعت بگڑنے پر ہاسپٹل سے رجوع کیا گیا جہاں وہ جانبر نہ ہوسکی۔ دیگر متاثرین کا علاج جاری ہے۔ وزیر صحت ہریش راؤ نے اس واقعہ پر عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا اور متاثرین کی ہر ممکن مدد اور انصاف دلانے کا وعدہ کیا۔ متوفی خواتین کے خاندانوں کو پانچ لاکھ روپئے نقد اور ڈبل بیڈروم مکان کا اعلان کیا گیا ہے۔ ان کے بچوں کی تعلیم کی ذمہ داری حکومت نے لے لی ہے۔ باقی 30 خواتین کی حالت اطمینان بخش اور مستحکم بتائی گئی ہے۔ میڈیکل ٹیموں نے ان کے مکانات پہنچ کر معائنہ کیا ہے۔ 9 خواتین کو بخار اور دیگر علامات پر ہاسپٹل سے رجوع کیا گیا ۔ ڈائرکٹر پبلک ہیلت کے مطابق 2016 ء سے تاحال 1.10 لاکھ فیملی پلاننگ آپریشن کئے گئے جن میں 24233 سرجری ڈی پی ایل طریقہ کار کے تحت کی گئیں۔ مرکزی حکومت کے رہنمایانہ خطوط کے مطابق آپریشن کئے جارہے ہیں اور اس سلسلہ میں متعلقہ عملہ کو تربیت دی گئی ۔ر