ریاست میں قبل از وقت اسمبلی انتخابات پر چیف منسٹر کا غور ؟

   

مرکز پر دباؤ ڈالنے اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ احتجاج کی حکمت عملی ۔ ارکان راجیہ کو مستعفی کروانے کا بھی جائزہ

حیدرآباد۔19 نومبر(سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹر سمیتی نے 2022 میں انتخابات کا ذہن بنا لیا ہے اور کے سی آر کی جانب سے پارٹی قائدین کو انتخابات کیلئے تیار کرنے حکمت عملی پر غور کیا جارہا ہے اور انہیں کسی بھی وقت انتخابات کیلئے تیار رہنے بالواسطہ ہدایت دی جاچکی ہے!تلنگانہ میں قبل از وقت انتخابات یا ملک بھر میں قبل از وقت انتخابات کی تیاریاں کی جانے لگی ہیں! چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے آئندہ انتخابات میں کامیابی کے علاوہ بی جے پی کو اپوزیشن جماعتو ںکے آگے بے بس کرنے جدوجہد کو تیز کرنے کئی حکمت عملی اور منصوبوں کا جائزہ لیا جانے لگا ہے۔ تلنگانہ راشٹر سمیتی ذرائع کے مطابق چندر شیکھر راؤ اجتماعی استعفوں ‘ اسمبلی کی تحلیل کے علاوہ ملک بھرکی اپوزیشن جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ کو مستعفی کروانے کی منصوبہ بندی کرنے لگے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اگر تلنگانہ سے مرکز دھان نہیں خریدتا ہے تو ارکان راجیہ سبھا کے استعفوں پر غور کیا جانے لگا ہے۔مرکز کی جانب سے دھان کی خریدی نہ کرنے پر احتجاج کرنے والے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے ملک بھر میں احتجاجی مہم شروع کرنے اور کسانوں کیلئے اقدامات کامطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی مہم جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے ۔ مرکزی حکومت کے ساتھ تلنگانہ راشٹر سمیتی کی جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی متعدد اعلانات اور اقدامات کی توقع کی جا رہی ہے اور کہا جا رہاہے کہ تلنگانہ راشٹرسمیتی کی جانب سے قبل از وقت انتخابات کی تیاری کی جانے لگی ہے ۔ اگر مرکز کی جانب سے مطالبات کی یکسوئی نہیں کی جاتی ہے تو مشکلات کا شکار تمام ریاستوں میں اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ متحدہ مخالف حکومت احتجاج میں شدت پیدا کی جائے گی اور تلنگانہ کے حصول کیلئے جس طرح دستوری بحران پیدا کرنے کی تاریخ ہے اس کو دوہرایا جائے گا۔ بتایاجاتا ہے کہ چندر شیکھر راؤ نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اگر مرکزی حکومت کی جانب سے دھان کی خریدی نہیں کی جاتی ہے تو حصول تلنگانہ کیلئے جس انداز کی تحریک چلائی گئی تھی اسی انداز سے تحریک چلاکر حکومت کو مجبور کیا جائے۔ تلنگانہ راشٹر سمیتی کی جانب سے حضورآباد ضمنی انتخابات میں شکست کے فوری بعد بی جے پی کے خلاف مہم کے آغاز اور ضرورت پڑنے پر دہلی میں احتجاج کے اعلان کے بعد کہا جا رہاہے کہ بی جے پی اور ٹی آر ایس کے درمیان دوریوں میں اضافہ ہونے لگا ہے۔ ٹی آر ایس کے احتجاج کے بعد وزیر اعظم کے اعلان کو ٹی آر ایس اپنی کامیابی کے طور پر پیش کر رہی ہے۔