ریاست کا خزانہ خالی ، چیف منسٹر کے لیے فی گھنٹہ 10 لاکھ روپئے کا ہیلی کاپٹر

   

سالانہ 60 کروڑ کا بوجھ ملک میں صرف چندرا بابو نائیڈو اور امبانی کے پاس ہی ہیلی کاپٹرموجود
حیدرآباد ۔ 11 ۔ جون : ( سیاست نیوز) : ایک طرف ریونت ریڈی حکومت ریاستی خزانے میں رقم کی شدید کمی کا رونا روتے ہوئے گزشتہ ڈھائی سال سے عوام سے کئے گئے چھ ضمانتوں کے علاوہ دیگر وعدوں پر عمل آوری کے لیے ٹال مٹول کی پالیسی اپنا رہی ہے اور اب تک 4 لاکھ کروڑ روپئے سے زائد کا بھاری قرض لے چکی ہے تو دوسری طرف عوام پر ایک اور بڑا مالی بوجھ ڈالنے کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ حکومت نے چیف منسٹر ریونت ریڈی کے فضائی سفر کے لیے دنیا کا مہنگا ترین اور جدید ہیلی کاپٹر کرائے پر لینے کا منصوبہ بنا رہی ہے اور اس کی تجاویز بھی تیار کرلی گئی ہیں ۔ ریونت ریڈی کے استعمال کے لیے دنیا کا جدید ترین ایر بس (Air bus 160) ہیلی کاپٹر جلد ہی حیدرآباد پہونچے گا ۔ ملک کی کسی اور ریاست کا چیف منسٹر اس قسم کا انتہائی مہنگا ہیلی کاپٹر استعمال نہیں کرتا ۔ اب تک آندھرا پردیش کے چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو ملک کے واحد سیاست داں ہیں جو اس ماڈل کا استعمال کرتے ہیں جب کہ ملک کے سب سے بڑے تاجر مکیش امبانی کے پاس یہ ہیلی کاپٹر موجود ہے ۔ کئی خاص اور وی آئی پی خصوصیات کے حامل اس ایر بس ہیلی کاپٹر کی اصل قیمت 180 کروڑ روپئے سے زیادہ ہے ۔ ٹیکس اور دیگر اخراجات شامل کئے جائیں تو یہ 200 کروڑ روپئے تک پہونچ جاتی ہے ۔ جو مسافروں کو انتہائی آرام دہ سفر فراہم کرتا ہے ۔ عام طور پر حکومتیں ہیلی کاپٹر خریدنے سے گریز کرتی ہیں کیوںکہ ان کی پارکنگ ، پائلٹس اور عملے کی بھرتی سمیت دیکھ بھال ایک بڑا بوجھ بن جاتی ہے ۔ اس لیے اسے لیز یا کرائے پر لیا جاتا ہے ۔ ریونت ریڈی حکومت بنگلور کی ایک خانگی کمپنی سے یہ ہیلی کاپٹر کرائے پر لینے کے لیے بات چیت کررہی ہے ۔ کمپنی نے حکومت کے سامنے کڑی شرائط رکھی ہیں ۔ حکومت کو اس ہیلی کاپٹر کے استعمال کے لیے 10 لاکھ روپئے فی گھنٹہ کرایہ ادا کرنا ہوگا ۔ جی ایس ٹی کے بشمول دیگر تمام ٹیکسیس کی ادائیگی ریاستی حکومت کے ذمے ہوگی ۔ کمپنی کا اصول ہے ۔ ہیلی کاپٹر استعمال ہو یا نہ ہو ایک ماہ کا کرایہ پیشگی ادا کرنا ہوگا ۔ حکومت کو صرف کرائے کی مد میں 4 کروڑ روپئے ماہانہ اور دیکھ بھال و ٹیکسیس کے لیے مزید ایک کروڑ روپئے ماہانہ ادا کرنے ہوں گے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہیلی کاپٹر زمین پر کھڑا رہے تب بھی صرف اس کے کرائے اور دیکھ بھال پر ریاستی خزانے سے سالانہ 60 کروڑ روپئے ادا کرنے ہوں گے ۔۔ 2/m/b