عہدیداروں کی رپورٹ کے بعد بجٹ میں کٹوتی اور ترمیمات تیار کرنے چیف منسٹر کے سی آر کی ہدایت
حیدرآباد : کورونا بحران سے مالیاتی سال 2020-21 میں ریاست کی آمدنی 52,750 کروڑ گھٹ جانے کا محکمہ فینانس کے عہدیداروں نے چیف منسٹر کے سی آر سے ملاقات میں اندیشہ ظاہر کیا ۔ 2020-21 کے تخمینہ بجٹ میں تبدیلیاں اور ترمیمات کو لازمی قرار دے کر رپورٹ پیش کی ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے آج پرگتی بھون میں محکمہ فینانس کے عہدیداروں کا اجلاس طلب کرکیہوئے عبوری بجٹ کا جائزہ لیا ۔ عہدیداروں نے چیف منسٹر کو بتایا کہ ریاست کو ٹیکس اور غیر ٹیکس سے 2019-20 میں اپریل سے اکٹوبر تک 7 ماہ کے دوران 39,608 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی ۔ مالیاتی سال 2020-21 میںاکٹوبر تک 33,704 کروڑ روپئے حاصل ہوئے ۔ ریاست کی شرح آمدنی 15 فیصد ہونے کا اندازہ کرتے ہوئے 2020-21 بجٹ تجاویز تیار کئے گئے تھے ۔ تاہم کورونا بحران کی وجہ سے آمدنی کا تناسب 15 فیصد تک نہیں بڑھا اور گذشتہ سال جو آمدنی ہوئی تھی وہ آمدنی بھی اس سال نہیں ہوئی ۔ 2020-21 میں ریاست کو محصول و غیر محصول 67,608 کروڑ روپئے آمدنی کا بجٹ میں اندازہ تھا مگر آمدنی صرف 33,704 کروڑ روپئے ہی ہوسکتی ہے ۔ 33,904 کروڑ روپئے کی آمدنی گھٹ گئی ہے ۔ ریاست سے مرکز کو ملنے والے ٹیکس میں ریاست کی حصہ داری گھٹی ہے ۔ تلنگانہ کو 2020-21 میں 16,727 کروڑ روپئے ٹیکس میں حصہ داری کا مرکزی بجٹ میں تذکرہ کیا گیا ۔ جس کے مطابق مالیاتی سال 2020-21 میں اپریل تا اکٹوبر ٹیکس حصہ کے طور پر 8,363 کروڑ روپئے حاصل ہونا چاہئے تاہم صرف 6339 کروڑ ہی وصول ہوئے ہیں ۔ ٹیکس میں تاحال 2025 کروڑ کی حصہ داری گھٹی ہے ۔ سال 2020-21 کے اختتام تک 16,727 کروڑ کی بجائے 11,898 کروڑ روپئے وصول ہوسکتے ہیں جس سے ٹیکس حصہ داری 4829 کروڑ گھٹ رہی ہے ۔ مرکز کی اسکیمات کے تحت مرکز سے تلنگانہ کو سال 2020-21 میں 9725 کروڑ روپئے وصول طلب ہیں ۔ جس کے تحت اکٹوبر تک 5673 کروڑ روپئے وصول ہونا چاہئے ۔ مگر ابھی تک صرف 4592 کروڑ روپئے وصول ہوئے ہیں ۔ اکٹوبر تک وصول ہونے والے فنڈز میں 1081 کروڑ روپئے گھٹے ہیں ۔ رواں سال کے اختتام تک 9725 کروڑ کے منجملہ 8923 کروڑ روپئے وصول ہونے کا امکان ہے ۔ مرکز ی اسکیمات سے ملنے والے فنڈز میں 802 کروڑ روپئے گھٹ رہے ہیں ۔ ریاست کی جملہ آمدنی 52,750 کروڑ روپئے گھٹ رہی ہے ۔ جس کے پیش نظر ترجیحات اور منصوبہ تیار کرنے کی چیف منسٹر نے عہدیداروں کو ہدایت دی ۔۔