ریاست کی 900 مساجد میں دعوت افطار اور ملبوسات کے گفٹس کی تقسیم

   

ارکان اسمبلی کو گفٹ پیاکٹس روانہ، ہر مسجد کیلئے ایک لاکھ روپئے کی منظوری، ڈائرکٹراقلیتی بہبود شاہنواز قاسم کا بیان
حیدرآباد۔/13 اپریل، ( سیاست نیوز) رمضان المبارک کے موقع پر غریب مسلمانوں میں حکومت کی جانب سے ملبوسات پر مبنی گفٹ پیاکٹس کی تقسیم کی تمام تر تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں۔ تمام 119 اسمبلی حلقہ جات میں مقامی رکن اسمبلی کی نگرانی میں گفٹ پیاکٹس کی تقسیم عمل میں آئے گی۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود شاہنواز قاسم نے بتایا کہ شہر اور اضلاع کے اسمبلی حلقہ جات کیلئے گفٹ پیاکٹس کی منتقلی 90 فیصد مکمل ہوچکی ہے۔ ارکان اسمبلی اپنی سہولت کے اعتبار سے تقسیم عمل میں لائیں گے۔ ریاست بھر میں تقریباً 900 مساجد میں دعوت افطار اور تقسیم کا نظم کیا جارہا ہے اور ہر مسجد میں 500 پیاکٹس تقسیم کئے جائیں گے۔ دعوت افطار کیلئے حکومت کی جانب سے فی مسجد ایک لاکھ روپئے کی اجرائی عمل میں آئے گی۔ ریاست بھر میں 4 لاکھ 50 ہزار گفٹ پیاکٹس کی تقسیم کا منصوبہ ہے۔ شاہنواز قاسم نے بتایا کہ ہر اسمبلی حلقہ میں رکن اسمبلی کے سفارش کردہ 4 اور کارپوریٹرس کے سفارش کردہ 2 مساجد کا انتخاب کیا گیا ہے۔ حیدرآباد میں 434 سے زائد مساجد میں دعوت افطار اور ملبوسات کی تقسیم عمل میں آئے گی۔ حج ہاوز سے متصل فنکشن ہال میں ملبوسات کی تقسیم کا انتظام کیا گیا اور یہاں سے ارکان اسمبلی کو گفٹ پیاکٹس روانہ کئے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ فی مسجد ایک لاکھ روپئے کی عنقریب اجرائی عمل میں آئے گی اور 9 کروڑ روپئے دعوت افطار کیلئے جاری کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ رمضان کے آخری ہفتہ میں چیف منسٹر کی دعوت افطار کا اہتمام کیا جائے گا تاہم تاریخ کا تعین ابھی باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہر سال غریب مسلمانوں کو عید کی خوشیوں میں شامل کرنے کیلئے ملبوسات کا تحفہ پیش کررہی ہے۔ اس کے علاوہ مساجد میں دعوت افطار اور ڈِنر کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ شاہنواز قاسم نے بتایا کہ وقف بورڈ کے قضاۃ سیکشن میں نکاح اور دیگر سرٹیفکیٹس کی اجرائی کیلئے متعارف کردہ نئے طریقہ کار پر کامیابی سے عمل آوری جاری ہے۔ درخواست گذاروں کو آن لائن درخواست فارم داخل کرنا ہوگا اور کوریئر چارجس وصول کرتے ہوئے گھر بیٹھے سرٹیفکیٹس روانہ کئے جارہے ہیں۔ نئی تبدیلی سے عوام کو بروکرس سے نجات حاصل ہوچکی ہے جو وقف بورڈ کے ملازمین سے ملی بھگت کے ذریعہ بھاری رقومات حاصل کررہے تھے۔ر