ریتو ویدیکا میں کسانوں کی توڑ پھوڑ ، یوریا بکنگ نہ ہونے پر برہمی

   

عہدیداروں کی مداخلت پر صورتحال قابو میں ، کاماریڈی کے دیگر مقام پر بھی یور یا ایپ کے خلاف احتجاجی دھرنا

کاماریڈی :21؍ جون ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ریاستی حکومت کی جانب سے یوریا کی تقسیم کے لیے متعارف کردہ نئی موبائل ایپ پالیسی کے خلاف کسانوں میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ ضلع کے مختلف علاقوں میں کسان یوریا بکنگ میں پیش آنے والی مشکلات کے سبب احتجاج کر رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں راما ریڈی ریتو ویدیکا میں اس وقت کشیدگی پیدا ہو گئی جب متعدد کسانوں کی یوریا بکنگ نہ ہو سکی، جس پر برہم کسانوں نے دفتر میں موجود کرسیاں توڑ ڈالیں۔اطلاعات کے مطابق آندروئیڈ فون نہ رکھنے والے اور ایپ کے استعمال سے ناواقف کسانوں کو آگاہی فراہم کرنے کے لیے محکمہ زراعت کے عہدیداروں نے راما ریڈی کسان ویدیکا میں ایک اجلاس منعقد کیا تھا۔ اس دوران عہدیدار کسانوں کے لیے ایپ کے ذریعہ یوریا بکنگ کر رہے تھے، تاہم مقامی فرٹیلائزر دکان میں دستیاب 840 بوری یوریا کا ذخیرہ مکمل طور پر بک ہو گیا، جس کے باعث کئی کسان یوریا حاصل کرنے سے محروم رہ گئے۔بکنگ نہ ہونے پر کسانوں نے عہدیداروں سے سخت سوالات کیے۔ عہدیداروں کی جانب سے کسانوں کو سمجھانے کی کوشش کے باوجود مشتعل کسانوں نے ریتو ویدیکا میں توڑ پھوڑ کرتے ہوئے کرسیاں نقصان پہنچائیں۔ اطلاع ملنے پر ایڈیشنل کلکٹر گری، ضلع زرعی عہدیدار موہن ریڈی، تحصیلدار اوما لتا اور ایس آئی راج شیکھر موقع پر پہنچے اور کسانوں سے بات چیت کر کے صورتحال کو قابو میں کیا۔کسانوں نے مطالبہ کیا کہ یوریا کی تقسیم کے لیے ایپ نظام کو فوری طور پر ختم کیا جائے اور سابقہ طریقہ کار کے مطابق کوآپریٹیو سوسائٹیوں کے ذریعے کھاد کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ عہدیداروں کی مداخلت کے بعد احتجاج وقتی طور پر ختم ہو گیا۔اس طرح دومہ کنڈہ میں بھی بی آر ایس قائدین اور کسانوں نے یوریا ایپ کے خلاف احتجاجی دھرنا منظم کیا۔ پرانے بس اسٹانڈ چوراہے پر منعقدہ دھرنے میں مظاہرین نے حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور بعد ازاں تحصیلدار دفتر تک ریلی نکال کر یادداشت پیش کی۔احتجاج کی اطلاع ملتے ہی سب انسپکٹر پربھاکر پولیس عملے کے ساتھ موقع پر پہنچ گئے اور مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی۔ پولیس نے سابق مارکیٹ کمیٹی چیئرمین شیکھر، سابق پارٹی جنرل سکریٹری و نائب سرپنچ سرینواس، یوتھ قائدین اور وارڈ ممبر پالکورتی شیکھر کو حراست میں لے کر پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا۔اس موقع پر مقررین نے الزام عائد کیا کہ یوریا ایپ میں سہ پہر تین بجے اسٹاک دستیاب دکھائی دیتا ہے لیکن چند لمحوں بعد ہی “نو اسٹاک” ظاہر ہونے لگتا ہے، جبکہ بیشتر کسان ایک بوری یوریا بھی بک نہیں کر پا رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آئندہ چند دنوں میں فصلوں کی بونے کے لیے کی تیاری رہنے و الے کسان شدید مشکلات سے دوچار ہو جائیں گے۔