ایس بی آئی کا اعلان‘انیل امبانی کی کمپنی کو بڑا دھکہ
نئی دہلی۔3؍جولائی( ایجنسیز) ٹیلی کام سیکٹر میں نمایاں مقام رکھنے والی انیل امبانی کی کمپنی ریلائنس کمیونیکیشن کو اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) نے زبردست جھٹکہ دیا ہے۔ ایس بی آئی نے کمپنی کے لون اکاؤنٹ کو ‘فراڈ’ یعنی دھوکہ دہی کے زمرہ میں ڈال دیا ہے۔ کمپنی نے اسٹاک ایکسچینج میں فائلنگ کے ذریعے اس بات کی تصدیق کی ہے۔رپورٹ کے مطابق ایس بی آئی نے اگست 2016 سے کمپنی کو دی گئی قرض سہولیات کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ لیا۔ بینک نے کمپنی کو دسمبر 2023، مارچ 2024 اور ستمبر 2024 میں وجہ بتاؤ نوٹس (شو کاز نوٹس) بھیجے تھے۔ کمپنی کی جانب سے دیے گئے جوابات کا مکمل جائزہ لینے کے بعد بینک نے کہا کہ ریلائنس کمیونیکیشن نے قرض کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے اور اپنے اکاؤنٹس کے آپریشن میں شفافیت نہیں دکھائی۔ایس بی آئی اب اس فیصلے کی اطلاع ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کو بھی دے گا اور کمپنی سے وابستہ افراد کی تفصیلات بھی رپورٹ کرے گا جن میں انیل امبانی کا نام بھی شامل ہے۔فی الحال ریلائنس کمیونیکیشن انڈین بینکرپسی کوڈ (آئی بی سی) کے تحت دیوالیہ پن کی کارروائی سے گزر رہی ہے اور نیشنل کمپنی لاء ٹربیونل (این سی ایل ٹی) کی حتمی منظوری کا انتظار کر رہی ہے۔اپنے ردعمل میں ریلائنس کمیونیکیشن نے کہا ہے کہ ایس بی آئی کی طرف سے دی گئی قرض سہولیات 2019 سے پہلے کی ہیں جب کمپنی کے خلاف کارپوریٹ ان سولوشن پروسیس (سی آئی آر پی) شروع نہیں ہوا تھا۔ کمپنی نے آئی بی سی کی دفعہ 32اے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک بار جب حل منصوبہ منظور ہو جائے تو کمپنی کو سی آئی آر پی سے پہلے کے مبینہ جرائم سے قانونی چھوٹ حاصل ہو جاتی ہے۔کمپنی نے کہا کہ ان قرضوں کا تصفیہ لازمی طور پر سی آئی آر پی کے تحت حل منصوبہ یا تصفیہ کے ذریعے ہی کیا جانا چاہیے۔ اس وقت کمپنی آئی بی سی کے تحت قانونی تحفظ میں ہے اور وہ اس معاملے میں قانونی مشورہ بھی حاصل کر رہی ہے۔یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کسی بینک نے ریلائنس کمیونیکیشن کے لون اکاؤنٹ کو فراڈ قرار دیا ہو۔ اس سے قبل نومبر 2024 میں کینرا بینک نے بھی اسی طرح کی کارروائی کی تھی لیکن فروری 2025 میں بمبئی ہائی کورٹ نے اس فیصلے پر روک لگا دی تھی۔ عدالت نے آر بی آئی کے رہنما اصولوں کے مطابق قرض دہندہ کو مناسب سماعت کا موقع نہ دیے جانے کو بنیاد بنایا تھا۔