کے ٹی آر سخت برہم ، پارلیمنٹ کے اجلاس میں موضوع بحث بنانے کا فیصلہ
حیدرآباد : وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے مرکزی حکومت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تلنگائنہ سے ناانصافی کا الزام عائد کیا ۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزارت ریلوے کی جانب سے قاضی پیٹ میں ریلوے کوچ فیکٹری کی ضرورت نہ ہونے کا جو دعویٰ کیا گیا ہے ، اس پر ناراضگی ظاہر کی ۔ انہوں نے کہا کہ تقسیم آندھراپردیش کے بل میں تلنگانہ میں ریلوے کوچ فیکٹری قائم کرنے کا وعدہ کیا گیا ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے قاضی پیٹ میں ریلوے کوچ فیکٹری قائم کرنے کی نمائندگی کی ۔ اس کیلئے 150 ایکر اراضی مرکز کے حو الے کی گئی لیکن حکومت نے فیکٹری کے قیام میں ناانصافی کی ہے ۔ شہر میں آئی ٹی کے فروغ کو روکنے مرکز نے آئی ٹی آئی پراجکٹ کو منسوخ کردیا ۔ اب نیا فیصلہ کرکے قاضی پیٹ میں ریلوے کوچ فیکٹری کی ضرورت نہ ہونے کا دعویٰ کرر ہی ہے۔ مرکزی حکومت کا یہ فیصلہ ورنگل کے ساتھ سارے تلنگانہ سے ناانصافی ہے۔ ریلوے بجٹ میں ریاست کے زیر التواء ریلوے لائین کاموں کیلئے ایک روپیہ بھی منظور نہیں کیا گیا ۔ ہائی اسپیڈ ٹرین اور بلٹ ٹرین کے معاملے میں تلنگانہ سے ناانصافی کی گئی ۔ ریلوے کو خانگی کمپنیوں کے حوالے کرنے کی کوشش کرنے ی بھی کے ٹی آر نے مذمت کی ۔ علحدہ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد بی جے پی کی مرکزی حکومت ہر معاملے میں تلنگانہ سے ناانصافی کر رہی ہے ۔ پارلیمنٹ کو گواہ بناکر تلنگانہ کے قاضی پیٹ میں ریلوے کوچ فیکٹری قائم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا ۔ اس کو منسوخ کرنے کا بی جے پی حکومت کو اختیار نہیں ہے ۔ تلنگانہ کے مفادات کا تحفظ کرنے اور ریلوے کوچ فیکٹری قائم کرانے ٹی آر ایس کسی بھی جدوجہد کیلئے تیار ہے ۔ پارلیمنٹ اجلاس میں ٹی آر ایس ایم پیز ریلوے کوچ فیکٹری کے قیام کیلئے مرکز پر دباؤ بنائیں گے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ ریلوے کو خانگی شعبہ کے حوالے کرنے پر نوجوان ملازمتوں سے محروم ہوجائیں گے۔